گستاخانہ خاکے: جماعت اسلامی حلقہ خواتین کا احتجاج

132
جماعت اسلامی حلقہ خواتین ضلع حیدرآباد کے تحت پریس کلب کے سامنے فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جانب سے فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کی جانب سے مسلمانوںکے جذبات مجروح کرنے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں خواتین وکمسن بچے شامل تھے۔ مظاہرے کی قیادت جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی صوبائی رہنما عائشہ وحید نائین ضلع سائرہ خلیق، فرزانہ ایوب، ناہید انیس، فراز کشور، سعدیہ بقائی ، مہناز امیر کررہی تھیں جبکہ امیر جماعت اسلامی حیدرآباد عقیل احمد خان، سابق امیر حافظ طاہر مجید، جے یو آئی یوتھ سندھ کے جنرل سیکرٹری ظہیر الدین شیخ بھی موجود تھے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ خواتین کی صوبائی رہنما عائشہ وحید نے کہاکہ ناموس رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے تمام مسلمانوں کو اس گھٹیا حرکت کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔ فرانس یہ جان لے کہ امت کا ہر بچہ جوان بزرگ اور
خواتین سب اپنے نبی ﷺ کے ناموس کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کرناجانتے ہیں۔ا نہوںنے کہاکہ عالمی اداروں کا یہ دوہرا معیار اب کسی صورت قابل قبول نہیں اقوام متحدہ تماشا دیکھنے کے بجائے قانون سازی کرے جس میں تمام ا نبیاء کی شان میں گستاخی کو جرم قرار دیاجائے۔ انہوںنے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر فرانس سے سفارتی وتجارتی تعلقات منقطع کیے جائیں جبکہ خارجی سطح پر دنیا بھر میں اس حوالے سے فعال کردار ادا کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ آئندہ پیغمبر اسلامﷺ سمیت تمام مقدس مذہبی شخصیات کا احترام وتکریم ملحوظ خاطر رکھاجائے عوام بھی فرانسیسی اشیا کا بائیکاٹ کرے ۔عقیل احمد خان نے کہاکہ فرانس نے سرکاری سطح پر نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے جو ناقابل معافی جرم ہے حضرت امام مالکؓ نے فرمایااس قوم کو جینے کا حق نہیں جس کے سامنے اس کے رسولﷺ کی توہین کی جائے وہ خاموش رہے، پاکستانی حکمران ہوش کے ناخن لیں اور فوری طور پر فرانس سے سفارتی وتجارتی تعلقات کو ختم کریں اقوام متحدہ اور عالمی امن کے ٹھیکیدار اپنے رویہ درست کریں۔حافظ طاہر مجید نے کہاکہ ریاست مدینہ کے دعوے دار حرمت رسول ﷺ پر آج گھروں میں چھپے بیٹھے ہیں تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی ملک نے سرکاری سطح پر گستاخی کا سنگین جرم کیا ہے۔ مظاہرے میں شریک معصوم بچے فرانس کے خلاف نعرے بازی اور فرانس کے ملعون صدر کی تصاویر کو پاؤں تلے روندتے رہے ۔