پنجاب: مہنگائی بے قابو، سب اچھا ہے کی رپورٹس پیش

218

لاہور: مہنگائی کنٹرول کرنے کے دعوے ایک بار پھر ہوا ہو گئے جبکہ ضلعی افسران فیلڈ میں جانے کےبجائے سب اچھا ہے کی رپورٹس دینے پر لگ گئے اور قیموں کو پر لگ گئے۔

رمضان کے دوران مرغی کا گوشت 120 روپے تک مہنگا، پھل، سبزیاں اور اجناس کی بھی من مانی قیمتوں پر فروخت جاری (فوٹو : فائل)

ذرائع ابلاغ ہر جاری رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں اشیائےخورونوش کی قیمتوں میں12فیصد تک اضافہ ہوا ہے لیکن ضلعی افسران فیلڈ میں جانے کےبجائے سب اچھا کی رپورٹس دینے پر لگ گئے ہیں اور مہنگاءی کنٹرول کرنے کے حکومتی وعدے ہوا ہوگءے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مہنگاءی کی رپورٹس سے وزیراعلیٰ اور اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مہنگائی کنٹرول کرنے کے معاملے پر اجلاس ہوئے، رپورٹس بھی بنیں لیکن عمل درآمد نہ ہو سکا اور ایک ماہ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں12فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ایک ماہ میں وزیراعلیٰ کے 8، چیف سیکرٹری کے21اجلاس ہوئے، وزراء اور سیکرٹریز کی ڈیوٹیاں بھی لگیں مگر 22 وزراء اور24 سیکرٹریز نے مقام پر جاکر وزٹ ہی نہ کئے بس اور پنجاب کے 17اضلاع میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کو ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران سب اچھا ہے کی رپورٹس ہی دیتے رہے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رپورٹس سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا جبکہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اوکاڑہ، مظفر گڑھ، ملتان، ساہیوال، خوشاب اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کےڈپٹی کمشنرز دفاتر سے نکلتے ہی نہیں اور فیلڈ میں موجود افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ریٹ کئی گناہ بڑھ گءے ہیں۔

واضح رہے اسپیشل برانچ کی رپورٹس کی تیاری بعض اضلاع میں ڈپٹی کمشنرزکی مشاورت سے کی جاتی رہی ہے جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے سے متعلق رپورٹس کو دیکھتے ہوئے ایکشن لئے جاتے ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنرز لاہور، گوجرانوالہ، اوکاڑہ اور حافظ آباد سے متعلق رپورٹ پرسخت ہدایات دی ہیں جبکہ ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق رپورٹس سے پتہ چلا ہے بعض اضلاع میں آٹا مقررہ نرخوں سے زائد پر فروخت ہورہا ہے جس پر چیف سیکرٹری نےسخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے