شامی کیمپوں میں 600 سے زائد یورپی بچے زیر حراست

110

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) بلجیم کے 2 محققین نے شمال مشرقی شام میں امریکا نواز کرد ملیشیاؤں کے زیرانتظام 2 پناہ گزین کیمپوں میں یورپی جنگجوؤں کے بچوں کی تعداد کے حوالے سے ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دونوں کیمپوں ان بچوں کی تعداد 600 سے زائد ہے، جن میں تقریباً ایک تہائی فرانسیسی ہیں۔ برسلز میں ایگمونٹ انسٹیٹیوٹ میں جنگجوؤں کے امور سے متعلق ماہر ٹوما رینر اور رک کولسائٹ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک سے تعلق رکھنے والے 610 سے 680 کے درمیان بچے اپنی ماؤں کے ساتھ شمال مشرقی شام میں روج اور الہول کیمپوں میں زیر حراست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ بچے 2019ء سے اپنی ماؤں کے ساتھ قید ہیں۔ ان بچوں کی مائیں داعش کی صفوں میں شامل تھیں یا جنگجوؤں کی بیوائیں ہیں۔ ان کیمپوں میں زیر حراست سب سے زیادہ بچوں کا تعلق فرانس سے ہے، جن کی تعداد 200 سے 250 تک ہے۔ اس کے بعد جرمنی، ہالینڈ، سوئیڈن، بلجیم اور برطانیہ کا نمبر ہے۔ دونوں محققین نے باور کرایا کہ یہ زیر حراست بچے اپنے والدین کے چنے ہوئے راستے اور جنگوں کے علاوہ ان کیمپوں میں نہایت ابتر حالات کا شکار ہیں۔ اس طرح وہ یورپی ممالک کی حکومتوں کے نظر انداز کیے جانے کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی حکومتیں ان کے حالات کو پوری طرح جانتی ہیں، تاہم انہوں نے ان بچوں کو وطن واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ ان بچوں کی اپنے ممالک واپسی کی صورت میں یہ ٹائم بم ثابت ہوں گے، کیوں کہ ان بچوں میں 60 سے 70 فیصد کی عمر 5 برس سے بھی کم ہے اور دیگر بچوں کی بھی زیادہ سے زیادہ عمر 12 سے کم ہے۔