گستاخانہ خاکوں کیخلاف صحافیوں کا کراچی پریس کلب پر احتجاج

48

کراچی (اسٹاف رپورٹر) فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوںکی اشاعت کیخلاف کراچی کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی، جمعرات کو کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور،کراچی پریس کلب اور کراچی کی تمام صحافتی و فوٹو گرافر تنظیموں نے کراچی پریس کلب کے باہر مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا ،جس میں پرنٹ والیکڑونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے سے کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر ریاض احمد ساگر،سیکرٹری محمد عارف خان،کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران،سیکرٹری ارمان صابر،کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر حسن عباس،سیکرٹری عاجز جمالی، جی ایم جمالی،پیپ کے صدر محمد جمیل،جنرل سیکرٹری عباس مہدی، کراچی پریس کلب کے سابق سیکرٹری اے ایچ خانزادہ،عامر لطیف سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں گستاخانہ خاکوں کی حمایت کرکے مسلم امہ کی دل آزاری کی ،ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ناموس کی حفاظت کیلیے کچھ بھی کرگزرنے کو تیار ہیں، گستاخانہ خاکوں کو اظہار رائے کی آزادی قرار دینا ظلم ہے۔ امتیاز خان فاران نے کہا کہ فرانس سے ہر سطح پر تعلقات ختم کیے جائیں۔ارمان صابر نے کہا کہ فرانسیسی صدرنے انتہا پسندی کو ہوا دی ہے لہٰذافرانس کے سفیر کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کیا جائے۔ صدر ریاض احمد ساگر نے کہاکہ فرانس دنیا کے امن کے ساتھ کھیل رہاہے۔محمد عارف خان نے کہا کہ گستاخانہ خاکے بنانے والوں اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ مغرب میں مسلمانوں پر حجاب، قرآن، مساجد، اسلامی تعلیمات، اسلامی شعائر کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند کیا جائے۔ حسن عباس نے کہا کہ فرانس میں بار بار شان رسالت محمد ﷺکی شان میںگستاخی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ جی ایم جمالی نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔دنیا کے کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی نہیں دی جاتی جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہوں۔