سانحہ جلال آباد

182

افغان صوبے ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں بدھ کے روز وقوع پزیر ہونے والے اندوہناک سانحے میں پندرہ قیمتی انسانی جانو ں کے ضیاع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہوگا۔ جان بحق ہونے والے یہ بد قسمت افراد جلال آباد میں قائم پاکستانی قونصل خانے سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک فٹبال اسٹیڈیم میں پاکستان کے ویزے کے حصول کے لیے جمع تھے جہاں بھگدڑ مچنے کے باعث پیروں تلے کچلے گئے جن میں اکثریت خواتین اور بزرگوں کی بتائی جاتی ہے جن میں ایک ایسی نوجوان خاتون بھی جان کی بازی ہار گئی جن کا رشتہ پاکستان میں ہوا تھا اور یہ بد قسمت خاتون شادی اور رخصتی کی فکر میں ویزے کے حصول کے لیے مقتل بننے والے اس خونخوار اسٹیڈیم میں موجود تھی۔ دلہن بن کر مستقبل میں پاک افغان تعلقات کی سفیر بننے والی اس خاتون کے انتقال کی خبر پانے کے بعد اس کے اہل خانہ اور سسرال پر کیا گزر رہی ہوگی اس دکھ اور تکلیف کی کیفیت کو وہی محسوس کرسکتا ہے جو خود یا اس کا کوئی قریبی عزیز ایسی کیسی صورتحال سے دوچار ہوا ہو۔
افغان دنیا کی وہ بد قسمت ترین قوم ہے جو پچھلی چار دہائیوں سے مسلسل حالت جنگ میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس افراتفری اور جنگ نے نجانے کتنے معصوم بچوں سے ان کے والدین کے سائے چھین کراور انہیں یتیم بناکر دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ان چالیس سال میں نجانے کتنے سہاگ اجڑ چکے ہیں۔ نجانے کتنے کمر خمیدہ بوڑھے اپنے نوجوانوں کے لاشیں دفنا چکے ہیں اور شاید ان مرنے والوں میں ایک بڑے تعداد تو ایسوں کی بھی ہوگی جنہیں شاید گور و کفن بھی نصیب نہیں ہوا ہوگا۔ ان چالیس سال میں افغانستان کا شاید ہی کوئی چپا ایسا ہوگا جو انسانی خون سے رنگین نہیں ہوا ہوگا۔ شہر، قصبات اور دیہات تو ایک طرف اس جنگ نے تو تورا بورا کے پہاڑوں اور غاروں اور دشت لیلیٰ کے ریگزاروں کو بھی نہیں بخشا۔ کیا کوئی معمولی احساس رکھنے والا انسان بھی شبرغان کے کنٹینروں میں زندہ درگور کیے جانے والے انسانوں کے دکھ اور غم کو بھلا سکتا ہے، کیا قلعہ جنگی میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کو آنکھیں بند کرکے فراموش کیا جاسکتا ہے۔ کیا سوویت یلغار کے دوران کھیتوں اور باغات کو سرخ ٹینکوں سے تاخت و تاراج کیے جانے، امریکی کروز میزائلوں، ڈیزی کٹر بموں کا نشانہ بننے والوں، باراتوں اور جنازوں پر فرینڈلی بمباری میں ہنستے بستے گھروں کو ماتم کدہ بنانے کے دلخراش واقعات کوئی بھلا سکتاہے۔
کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی ہولناک خانہ جنگی ہو یا پھر قندہار، جلال آباد، ہرات اور مزار شریف میں دلوں کو دہلا دینے والے دہشت گردی کے سانحات یہ افغانستان کی چالیس سال کی وہ داستان خونچکا ہے جس کا نہ کوئی عنوان ہے اور نہ کوئی اس تباہی و بربادی کی ذمے دار ی قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان نہ تو یورپ اور امریکا ہے اور نہ ہی دبئی اور جاپان ہے جہاں جلال آباد میں ویزے کے کئی دنوں سے منتظر ہزاروں افغان جانے کے لیے بے تاب تھے بلکہ یہ وہ لٹے پٹے بے سرو ساماں انسان تھے جو اپنی بیماریوں کا درمان ڈھونڈنے کی فکر و جستجو میں پاکستان آنا چاہتے تھے۔ ان میں بعض بدقسمت انسان ایسے بھی تھے جو پاکستان میں مقیم اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کے ہاں جاکر ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا چاہتے تھے۔
دراصل جب سے افغانستان کے موجودہ سیٹ اپ کے دوران دونوں جانب کی آمد ورفت کو اگر ایک طرف ریگولیٹ کرکے بغیر پاسپورٹ اور ویزا داخلے پر پابندی عائدکی گئی ہے تو دوسری جانب پاک افغان بارڈر پر خار دار باڑ کی تنصیب جو افغانستان میں موجود امریکی افواج اور افغان حکومت کی خواہش پر لگائی گئی ہے تب سے دونوں جانب غیر سرکاری آمد ورفت کا سلسلہ یا تو ختم یا انتہائی کم ہوکررہ گیا ہے لیکن اس کا نقصان افغان عوام کو اپنی ضروریات کے لیے پاکستان آزادانہ طور پر آنے میں ویزہ جیسی مشکلات کی صورت میں برداشت کرنا پڑ رہا ہے جس کا افسوسناک پہلو جلال آباد میں زیر بحث واقعے کی صورت میں سامنے آیا ہے لہٰذا اس تمام بحث اور صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں افغان حکومت کو گزشتہ روز کے اندوہناک واقعے کی روک تھام کے لیے پیشگی حفاظتی انتظامات کرلینے چاہیے تھے وہاں مستقبل میں اسی طرح کے کسی دلخراش سانحے سے بچنے کے لیے بھی افغان حکومت کو نہ صرف جلال آباد بلکہ کابل، قندہار اور دیگر شہروں میں قائم پاکستانی قونصل خانوں میں بھی اپنے شہریوں کے تحفظ اور ویزے کے حصول کی سہولتوں کا بندوبست کرنا چاہیے۔ اسی طرح حکومت پاکستان سے بھی یہ توقع ہے کہ وہ بھی افغانستان کے ساتھ صدیوں پر محیط مذہب، ثقافت اور تاریخ کے مشترکی رشتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے افغانوں بالخصوص بیماروں، معذور افراد، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی دو طرفہ آمد ورفت میں ہرممکن سہولت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔