شدت پسند مسلم نہیں بلکہ مغربی دنیا ہے، فضل الرحمن

230

ملتان : جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ وقت ثابت کررہا ہے کہ مسلم شدت پسند نہیں ہیں بلکہ مغربی دنیا شدت پسند ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا کہ امت مسلمہ کے لیے انتہائی تشویش کا وقت ہے،عوام فرانس  کی اشیاؤں کا بائیکاٹ کرے، مغربی دنیا میں آئے روز مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے نئی نئی حربے استعمال ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ امت مسلمہ سے ہماری اپیل یہی ہے کہ جتنے بھی کاروباری حوالہ سے معاہدات فرانس کے ساتھ ہیں وہ سب منقطع کر دیئے جائیں اور ان کو بتا دیا جائے کہ ہم آپ سے مکمل طور پر معاشی بائیکاٹ کررہے ہیں ۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ عوام بیزار ہوچکے، ہم جلسے کرتے رہیں گے اور تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے ، اگر ریاست ہاتھ اٹھا لے اور کہے کہ اب ہم اپنے شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر ہمارے رضاکار خود اپنے اجتماعات کو سکیورٹی مہیا کریں گے۔

فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ جب میڈیا اور سیاست کے گلے کو دبایاجاتا ہے تو یہ ڈکٹیٹر شپ کی علامت ابھر کر سامنے آتی ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان 2018کومنسوخ کرے اور نئے انتخاب کا اعلان کرے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا  کہ سی پیک کے مستقبل کو تباہ کردیا گیا ہے،آج قانون سازی ہو رہی ہے کہ سی پیک کے چیئرمین اورعملے کو نیب اور احتسابی اداروں سے مستثنیٰ قراردیا جائے،اسے کہتے ہیں سرکاری طور پر قانونی کرپشن ، قانون کے ذریعے آپ کرپشن کے راستے خود کھول رہے ہیں۔