گئو کشی قانون کو غلط استعمال کیا جارہا ہے،الہٰ آباد ہائی کورٹ

175

الٰہ آباد (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی الٰہ آباد ہائی کورٹ نے شمالی ریاست اترپردیش میں گئوکشی یا گائے ذبح کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے نافذ کردہ قانون کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس قانون کو بے گناہوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، جب کہ اس قانون کا استعمال اس میں مضمر جذبے کے تحت ہونا چاہیے۔ گئوکشی کے قانون کے تحت گرفتار ملزمان میں سے ایک کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے جج جسٹس سدھارتھ نے کہا کہ اس قانون کا استعمال بے گناہوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ جہاں بھی گوشت ملتا ہے، اسے بغیر فرانزک لیب میں جانچ کرائے گائے کا گوشت قرار دے دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں گوشت کو جانچ کے لیے بھی نہیں بھیجا جاتا ہے۔ ملزم ایسے جرم میں جیل میں رہتے ہیں، جو کہ ممکنہ طور پر ہوا ہی نہ ہو۔ ضمانت دیے جانے کے حکم میں کہا گیا ہے کہ جب گائیوں کو قبضے میں دکھایا جاتا ہے تو بازیابی کا کوئی میمو تیار نہیں کیا جاتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا ہے کہ بازیابی کے بعد گائیں کہاں جاتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے گئوونش یعنی گائے اور اس کی نسل یعنی بیل، سانڈ اور بچھڑے کی خراب حالت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گئوشالائیں (جہاں گائیں رکھی اور پالی جاتی ہیں) دودھ نہ دینے والی اور بوڑھی گایوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ وہ سڑکوں پر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں اور سڑکوں پر ان مویشیوں کی وجہ سے گزرنے والوں کو بھی خطرہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ مقامی لوگوں اور پولیس کے خوف سے ان گائیوں کو ریاست کے باہر بھی نہیں لے جایا جاسکتا ہے۔ چراگاہیں اب باقی نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ جانور یہاں وہاں بھٹکتے ہیں اور فصلوں کو تباہ کرتے ہیں۔ درخواست گزار رحیم الدین نے اس معاملے میں عدالت میں درخواست داخل کی تھی کہ انہیں بغیر کسی خاص الزام کے گرفتار کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس کی گرفتاری بھی جائے وقوع سے نہیں ہوئی تھی اور گرفتاری کے بعد پولیس نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ جس وجہ سے گرفتاری ہوئی ہے، وہ گائے کا گوشت تھا بھی یا نہیں۔ اترپردیش حکومت نے جون میں گئوکشی کے قانون کو مزید سخت بناتے ہوئے ریاست میں گئوکشی پر 10 سال تک قید اور 3 سے 5لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا منظور کی تھی۔