اقوام متحدہ کی کشمیر تنازع پر زبان بندی قائدانہ کردار پر سوالیہ نشان ہے، مسعود خان

130

مظفر آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے تنازع پر زبان بندی کر کے سفارتکاری کے میدان میں اپنے عالمی قائدانہ کردار کے لیے کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کشمیر کی سنگینی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے باوجود اس عالمی ادارے نے مبہم بیانات دینے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری قتل وغارت گری، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف کھلے عام جرائم پر سلامتی کونسل اپنی خاموشی توڑ کر اس تاثر کو ختم کرے کہ وہ ظالم اور مظلوم کی اس معرکہ آرائی میں ظالم کے ساتھ کھڑی ہے۔ سردار مسعود خان نے یوم سیاہ کے حوالے سے ویبینار اور وڈیو کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور ممالک کے اسٹرٹیجک اور معاشی مفادات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے باوجود بھارت کو جوابدہ نہ ٹھہرانا عالمی نظام کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیر کی تحریک آزادی کو شہری آزادیوں کی بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے علاوہ بھارت کیخلاف معاشی و اقتصادی پابندیوں کی تحریک شروع کرنا ہو گی کیونکہ صرف اسی صورت میں ہم اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو بولنے اور بھارت کو انسانی حقوق اور کشمیریوں کے بنیادی حق، حق خودارادیت کا احترام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہٍ تنازع کشمیر کو کثیر الجہتی سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دنیا کی پارلیمانی قوتوں، عالمی سول سوسائٹی اور میڈیا کو متحرک کر کے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جائز و منصفانہ جدوجہد کے لیے حمایت حاصل کریں۔ صدر آزاد کشمیر کا بھارت کے خلاف یوم سیاہ منانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 27 اکتوبر1947ء کے دن بھارت نے کشمیریوں کی منشا اور مرضی کے خلاف ریاست جموں وکشمیر کے ایک بڑے حصے پر فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا تھا جسے کشمیریوں نے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آج تک تسلیم نہیں کیا اور وہ ہر سال اس دن کو یوم سیاہ منا کر بھارت کے فوجی قبضہ کے خلاف اپنی نفرت اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں اور دنیا کو کشمیر کے حل طلب مسئلہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔