شیطانیت کا دور دورہ

231

عزت مآب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان صاحب نے بجا طور پر درست فرمایا ہے کہ بنچ اور بار کو انصاف کی فراہمی کے لیے خلوص نیت سے کام کرنا چاہیے۔ پرانے مقدمات کے فیصلے ترجیح بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ خدانخواستہ انصاف کا نظام ناکام ہوگیا تو سب سے زیادہ نقصان وکلا ہی کو ہوگا۔ انہوں نے وکلا کو مشورہ دیا ہے کہ کتاب سے رشتہ استوار کریں۔ واجب الاحترام جسٹس قاسم خان کا مشورہ بہت عمدہ اور اعلیٰ ہے مگر کتاب سے رشتہ تو اسی وقت استوار ہوسکتا ہے جب کتاب کو پڑھا جائے۔ مہذب ممالک میں لوگ اپنے ماہانہ بجٹ میں ایک کتاب کی خریداری ضرور شامل کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہے اور احساس بھی ہے کہ کتاب تہذیب نفس کے احساس کو اُجاگر کرتی ہے۔ کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے مگرہمارے ہاں کتب خانے قصۂ پارنیہ بن چکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو قوم دس پندرہ ہزار کا جوتا خریدنے میں بخل سے گریزاں نہ ہوں مگر ہزار پندرہ سو کی کتاب خریدنا فضول خرچی سمجھتی ہو وہاں کتاب سے رشتہ کیسے استوار ہوسکتا ہے۔
چیف صاحب مزید فرماتے ہیں کہ انصاف کی فوری فراہمی بہت ضروری ہے قوم کو انصاف ہوتا دکھائی دے گا تو عدلیہ کا تقدس برقرار رہے گا بار اور بنچ کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب بار اور بنچ متحد ہوکر کام کریں بروقت انصاف کی فراہمی سے سائلین کا ادارے پر اعتماد میں اضافہ ہوگا عدلیہ کی توقیر میں اضافہ ہوگا جج صاحبان کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف صاحب کا فرمان قابل تحسین ہے مگر قوم کی نظر میں یہ سب زبانی جمع خرچ ہے۔ کیونکہ عدالت عظمیٰ ہویا اعلیٰ عدالتیں اسی طرح کے بیانات جاری کرتی رہتی ہیں مگر عملاً آج تک کسی نے بھی عملی اقدام نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادنیٰ عدالتیں ہوں یا اعلیٰ عدالتیں جج اور جسٹس صاحبان صرف حاضری لگاتے ہیں۔ پیشی در پیشی کا شرم ناک کھیل بڑی دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے کھیلاجارہا ہے کوئی پوچھنے والا ہے کہ نہ احتساب کرنے والا ہر ادارہ بے سمت اور خود سر ہے۔ اگر احتساب کا خوف ہو تو کوئی با اختیار اور با اثر فرد اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتا۔
ہم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے التجا کریں گے کہ وہ پنجاب کی عدالتوں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے مختلف شہروں کی عدالتوں کا دورہ کریں۔ انہیں علم ہوجائے کہ عدالتیں انصاف کی فراہمی کے بجائے سائلین کو ذہنی اذیت دینے اور ان کا دیوالیہ نکالنے کے سوا کچھ نہیں کررہیں۔ پیشی در پیشی کا شرمناک اور مکروہ کھیل کھیل رہی ہیں۔ بہاولپور ہائی کورٹ کی کارگردی تو انتہائی شرمناک ہے پانچ تا دس سال کے مقدمات پیشی کے منتظر ہیں اور اگر اتفاقاً پیشی پڑ جائے تو جسٹس صاحبان منسوخ کردیتے ہیں یا لیف اوور کا ہتھوڑا چلادیتے ہیں شنید ہے کہ یہاں جسٹس صاحبان کی ایک کمیٹی بھی ہے جو شکایات سننے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے ان کے دربار میں فریاد کرنا چاہا تو علم ہوا کہ کمیٹی کے ارکان تو وکلا سے بھی ملاقات نہیں کرتے کہتے ہیں کہ جو کچھ کہنا ہے ٹیلی فون پر کہو کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے اس فاصلے سے انحراف غیر قانونی عمل ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کوئی بھی جعل ساز کسی بھی جائداد پر قبضہ جما کر جھوٹا مقدمہ درج کرا دیتا ہے اور پھر یہ شیطانی چکر کئی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ غور طلب امر یہ بھی کہ محکمہ مال، سول کورٹ، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ سے نامراد ہوکر جعل ساز عدالت عظمیٰ میں چلا جاتا ہے اور صاحب جائداد عدالتوں کے دھکے کھا کھا کر ادموا ہوجاتا ہے۔ اور اگر عمر رسیدہ ہو تو اللہ کی عدالت میں پہنچ جاتا ہے اور پھر جعل ساز کا قبضہ پکا ہوجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسا نظام عدل ہے جو حق دار کو زندہ درگور کردیتا ہے اور جعل سازوں کو اپنے سایہ عاطفت میں پناہ دے دیتا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ کوئی اس شرمناک اور اذیت ناک معاملے پر غور کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہر شخص اپنی نبیڑنے کے جتن کررہا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ آئین وقانون کے ماہرین اور نظام عدل کے کرتا دھرتا اس صورت حال سے آگاہی رکھنے کے باوجود عملی اقدمات اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ انہیں احتساب کا ڈر ہے نہ خدا کا خوف ہے۔ دل سے خدا نکل جائے تو انسانیت دم توڑ دیتی ہے ہر طرف شیطانیت کا دور دورہ ہی ہوتا ہے۔