ترک پارلیمنٹ نے فرانسیسی صدر کو ملعون قرار دیا۔یورپ پھر صلیبی جنگیں چاہتا ہے، اردوان

214

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام مخالف مواد کی تشہیر پر ترک پارلیمنٹ نے فرانسیسی صدر ایما نویل ماکرون کو ملعون قرار دینے کی قرار داد منظور کرلی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ترکی فرانسیسی صدر کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر پوری شدت سے لعنت بھیجتا ہے اور ان کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔قرارداد میں مغربی اقوام سے درخواست کی گئی کہ وہ اسلام سے متعلق اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ یورپ ایک بار پھر صلیبی جنگیں شروع کرنا چاہتا ہے۔ دارالحکومت انقرہ میں اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یورپ نے اب ہماری قدروں کو براہ راست نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور اب تو وہ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کررہے۔ترک صدر کے بقول ہم وہ قوم ہیں جو نہ صرف اپنی مذہبی اقدار کا احترام کرتے ہیں بلکہ دیگر مذاہب کی اقدار کا احترام کرتے ہیں لیکن ہماری اقدار کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔اردوان نے کہا کہ آزادی اظہار مذہبی مقدسات کی گستاخی سے تعلق نہیں رکھتی، وہ جو چاہیں کریں ہم اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔مزید برآں فرانسیسی طنزیہ جریدے چارلی ہیبڈو نے اپنے ٹائٹل پر ترک صدر رجب طیب اردوان کا ایک خاکہ شائع کیا ہے، جس کے خلاف ترک حکومت نے شدید احتجاج کیا ہے۔ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم کلن نے کہاہے کہ ہم فرانسیسی میگزین میں اپنے صدر سے متعلق اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں کسی بھی عقیدہ، تقدس اور قدروں کا کوئی احترام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی بے حیائی دکھا رہے ہیں، ذاتی حقوق پر حملہ مزاح اور آزادی اظہار کے زمرے میں نہیں آتا۔ترکی کے صدارتی مواصلات کے ڈائریکٹر فرحتین التون نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ماکرون کا مسلم مخالف ایجنڈا اب سامنے آنا شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ثقافتی نسل پرستی اور نفرت پھیلانے کے لیے شائع کی گئی انتہائی مکروہ کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔