پشاور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

175

پشاور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرلی گئیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درس و تدریس کے لیے آنے والے طلبا کی ریکی کی گئی۔ مدرسے میں تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں سے تفتیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مدرسے میں زیرِ تعلیم ایک طالب علم بھی زیرِ حراست ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔ طلبا کا ریکارڈ اور کوائف کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص کے بیگ رکھنے سے متعلق عینی شاہدین کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔

گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگرآباد میں واقع مسجد سے متصل مدرسے کے مرکزی ہال میں درس قرآن کے دوران بم دھماکے ہوا تھا جس میں 8 افراد شہید جبکہ بچوں سمیت 112 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

عینی شاہد کے مطابق دھماکے کے وقت ایک ہزار سے 1200افراد مدرسے میں موجود تھے جبکہ درس دینے والے مولانا رحیم اللہ حقانی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

سی سی پی او پشاور کے مطابق دھماکے سے قبل ایک مشکوک شخص ہال میں طلبہ کے درمیان ایک بیگ رکھ کر گیا تھا۔