پشاور کے مدرسے میں دھماکا، 7 شہید، 100 زخمی

201

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک مدرسے میں دھماکے سے 7 افراد شہید جب کہ 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا دیر کالونی کوہاٹ روڈ پر واقع ایک مدرسے میں ہوا جس میں طلبا سمیت 7 افراد شہید اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔

کامران بنگش نے بتایا کہ آج صبح ایک شخص مدرسے میں داخل ہوا اور بارودی مواد سے بھرا بیگ طلبا کے درمیان رکھ کر چلا گیا جس کے بعد دھماکا ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ پشاور اور کوئٹہ کے لیے جنرل تھریٹ الرٹ تھا۔ خدشہ تھا کہ پشاور کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔

اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

شہر کی مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کو منتقل کردیا گیا جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹی پر بلالیا گیا۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

اسپتالوں میں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

ریسکیو حکام

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر افراد جھلسے ہوئے ہیں، مدرسے میں 100 سے زائد بچے زیرتعلیم تھے۔ دھماکا مدرسے کے ہال میں ہوا۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

پولیس کا مؤقف

ایس پی سٹی کے مطابق مشکوک شخص صبح 8 بجے مدرسہ میں داخل ہوا جہاں طلبا موجود تھے۔ مدرسے میں بارودی مواد سے بھرا بیگ رکھا گیا تھا، دھماکا آئی ای ڈی سے کیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت بچے حصول تعلیم میں مصروف تھے۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن جاری شروع کردیا ہے۔ علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل شفقت ملک

شفقت ملک کا کہنا ہے کہ دھماکا کسی منظم گروپ کی کارروائی لگتا ہے، اس میں 5 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے میں ٹائم ڈیوائس استعمال کی گئی۔ دھماکا خیز مواد میں چھرے بھی تھے، دھماکا خیز مواد ایک بیگ میں رکھا تھا۔

بم ڈسپوزل حکام کے مطابق دھماکا خیز مواد میں ٹی این ٹی کا استعمال لگتا ہے، جس کے شواہد ٹیسٹ کے لیے لیب بھیجے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی مذمت

وزیر اعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔