بھارت ،انتہاپسند شہریت قانون پر تنازع کو پھر ہوا دینے لگے

218

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کی وجہ سے تھم جانے والے متنازع شہریت قانون کو ہندو قوم پرست جماعتوں نے ایک بار پھر ہوا دینے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہندو قوم پرست جماعتیں اس مذموم کوشش کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی تگ ودو میں ہیں۔ پہلے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر اور اب ہندو قوم پرست جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اس حوالے سے بیانات دے کر معاملے کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہندوؤں کے تہوار دسہرا کے موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں حقائق کے منافی گفتگو کی۔ انہوں نے ہرزہ سرائی کی کہ سی اے اے کا مقصد کسی سماج کی مخالفت نہیں ہے۔ اس نئے قانون کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ سی اے اے کا استعمال کرکے موقع پرست افراد مخالفت کے ذریعے منظم تشدد پھیلارہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس قانون کا مقصد مسلمان آبادی کو قابو میں کرنا ہے۔ دسہرے کے موقع آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناگپور میں کی جانے والی تقریر کو ہندو قوم پرست جماعت کے رہنما کی جانب سے پالیسی بیان سمجھا جاتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اس تنظیم کی درجنوں ذیلی تنظیمیں اسی کے مطابق اپنا اپنا لائحہ عمل طے کرتی ہیں۔ ایک ہفتے قبل بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی اے اے کا نفاذ یقینی ہے۔ ابھی ضابطے تیار کیے جا رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے تھوڑی رکاوٹ آئی ہے۔ اس قانون کے ضابطے تیار ہو رہے ہیں اور بہت جلد ہم اسے مکمل کرلیں گے اور اسے جلد ہی نافذ کردیا جائے گا۔