شام میں روسی بمباری،78 افراد شہید

161
ادلب: روس کی وحشیانہ بم باری کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی نمازِ جنازہ شہر کے وسط میں ادا کی جارہی ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بشارالاسد کے حلیف ملک روس نے بم باری کرکے قیامت ڈھا دی۔ خبررساں اداروں کے مطابق روسی جنگی طیاروں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں ترکی کی سرحد کے قریب مزاحمت کاروں کے ایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق یہ حملہ جبل الدویلہ نامی علاقے میں ترکی کی حلیف مزاحمتی تنظیم فیلق الشام کے کیمپ پر کیا گیا۔ اس حملے میں 78افراد شہید اور 135 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مرنے والوں میں عورتوں اور بچوں سمیت عام شہری بھی شامل ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں مرکز میں قائم عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ شامی حزب اختلاف نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے، کیوں کہ یہ حملہ اس جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو کئی ماہ کی شدید لڑائی کے بعد رواں سال 6 مارچ کو ترکی اور روس کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں روس نے صوبہ ادلب میں مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں اور آبادیوں پر حملوں کا سلسلہ روک دیا تھا، جب کہ تُرک فوج اور اس کے حلیف شامی مزاحمت کاروں نے اسدی فوج کے خلاف کامیاب پیش قدمی روک دی تھی۔ ادلب میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد شامی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت دیگر صوبوں سے نقل مکانی کرکے آنے والے شہریوں پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ شام میں مارچ 2015ء میں بشارالاسد کی آمر حکومت کے خلاف شروع ہونے والی پُرامن عوامی تحریک کے خلاف ریاستی تشدد نے اس بحران کو خانہ جنگی میں بدل دیا تھا۔ اس وقت سے اب تک 4 سے 6 لاکھ افراد مارے جاچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عورتوں، بچوں اور دیگر شہریوں کی ہے۔ جنگ کے باعث پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس تباہی کا تخمینہ 300 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ملک کی نصف آبادی تقریباً سوا لاکھ افراد خانہ جنگی کے باعث دربدر ہیں، جن کی اکثریت ہمسایہ ممالک میں پناہ گزیں ہے۔ عالمی اور علاقائی طاقتیں اس انسانی المیے کو ختم کرانے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں لگی ہوئی ہیں۔