سیاست کا ولی

230

ہر غیر جانبدار دانشور ولی خان کو زیرک سیاست دان مانتا ہے۔ ہمارے خیال میں اگر انہیں سیاست کا ولی کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ ایک بار انہوں نے سیاسی قیادت کے فقدان اور سیاسی فہم کے بارے میں کہا تھا کہ جس دن پنجاب میں قومی سطح کا کوئی سیاست دان سیاسی اُفق پر طلوع ہوا پاکستان کے سیاسی مسائل دم توڑ دیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجزیے کو شیخ رشید کی طرح پیش گوئی نہیں کہا تھا۔ مگر حالات و واقعات نے ان کے تجزیے کو پیش گوئی بنا دیا ہے۔ پنجاب کے سیاسی اُفق پر میاں نواز شریف نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی سیاست پر چھا گئے۔ مگر پاکستان کے دشمن یہ بات کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ پاکستان سیاسی طور پر مستحکم ہو۔ سو انہوں نے پاناما لیکس کی آڑ میں میاں نواز شریف کو اتنا رسوا کیا کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ ہی سے نہیں بلکہ سیاست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ اور مقتدر قوتیں عمران خان کو قوم پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ شریف فیملی اور نواز لیگ کے رہنمائوں پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے بے شمار مقدمات درج ہیں۔ مگر کسی کو مجرم ثابت نہیں کیا جاسکا۔ خواجہ سعد رفیق دو سال تک نیب کی حراست میں رہے لیکن سارے الزام الزام ہی رہے۔ یہ ایک ایسی شرمناک حقیقت ہے جسے پاکستان کے مخالفین ہضم نہ کر سکے اور بدہضمی کا شکار ہو کر ماحول کو متعفن کرنے لگے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پنجاب کا کوئی سیاست دان قومی سطح کا لیڈر بنے اور ولی خان کا تجزیہ درست ثابت ہو۔ نیب، شریف فیملی اور مسلم لیگ کے رہنمائوں پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے مقدمے پر مقدمے بنائے جا رہی ہے۔ مگر اسے جہانگیر ترین دکھائی نہیں دیتے۔ جس نے آمدن نہ ہونے کے باوجود اربوں کھربوں کے اثاثے بنائے ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل کنگلے تھے آج پاکستان کے امیر ترین آدمی ہیں۔ شریف فیملی کا شمار پاکستان کے مالدار خاندانوں میں ہوتا تھا۔ کوئی بھی تاجر اپنی آمدن کے واضح ذرائع نہیں بتاتا۔ راز میں رکھنا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ شریف فیملی بھی اپنی آمدن کے واضح ذرائع بتانے سے گریزاں ہے۔ چین کے ایک تاجر سے عدالت نے آمدن کے ذرائع پوچھے تو اس نے جواب دینے سے گریز کیا۔ جج نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس کی آدھی دولت حکومت کو دینے کا حکم فرمایا۔ اس نے خوشی خوشی اس پر عمل کیا۔ اگر ہماری عدلیہ بھی اسی طرح سمجھداری سے کام لیتی تو قومی خزانہ بھر جاتا۔
خدا کا شکر ہے کہ بابائے قوم محمد علی جناحؒ زندہ نہیں ورنہ۔۔۔ انہیں بھی رسوا کن اور شرمناک مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا۔ قبل ازیں ان کی ہمشیرہ مادرِ ملت فاطمہ جناحؒ پر غداری کا الزام لگ ہی چکا ہے۔ ان حالات میں ہمیں اپنی یونٹ کا نائیک نسیم بٹ یاد آنے لگتا ہے۔ وہ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے بہت الرجک تھا۔ ان دنوں ہماری تعیناتی رحیم یار خان میں تھی اور عرب شیخ وہاں اسپتال اور سڑکیں بنانے میں بہت دلچسپی لے رہے تھے۔ نسیم بٹ کہا کرتا تھا کہ ہم کشمیری مر جائیں گے مگر اسپتال اور چمکدار سڑکوں کے لیے عرب شیخوں کو وہ قیمت نہیں سکتے جو دی جارہی ہے۔ وہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ پاکستان کے سیاست دان منافق ہیں۔ یہ لوگ کشمیر کو بھارت کے تسلط سے چھڑانا ہی نہیں چاہتے۔ بھارت کو ناراض کرنا ان کے اختیار میں نہیں۔ ان کے بیانات کشمیر کی حمایت میں نہیں ہوتے۔ اس لیے دنیا ہماری حمایت نہیں کرتی۔ کشمیر بنے گا پاکستان کا کیا مطلب ہے ا ور کشمیر کیوں پاکستان بنے گا۔ ہم کنویں سے نکل کر کھائی میں گرنا کبھی گوارا نہیں کریں گے۔ ہمارا ایمان ہے کہ کشمیر جنت ہے اور جنت کبھی منافق اور شعبدہ باز کو نہیں مل سکتی۔ اس وقت ہمیں اس کی باتوں سے سخت اختلاف تھا۔ مگر غداروں کی فہرست میں کشمیر کے وزیر اعظم کا نام دیکھ کر اس کی باتوں سے متفق ہونے کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاست دان غدار ہیں جرنیل غدار ہیں تو پاکستان کا کیا جواز ہے۔ اور بھارت پر دہشت گردی کے الزام بھی جھوٹ کا پلندہ قرار پاتے ہیں۔
چودھری فواد کا کہنا ہے کہ کریمنل کیس کو سیاسی کیس بنایا جا رہا ہے۔ گویا جن لوگوں پر غداری کا مقدمہ بنایا گیا وہ سب کریمنل ہیں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم پر غداری کا مقدمہ کس قانون کے تحت بنایا گیا ہے۔ ہمارے آئین میں ایسی کوئی دفعہ ہی موجود نہیں جس کے تحت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم پر مقدمہ دائر کیا جا سکے۔ حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ عدلیہ جو از خود نوٹس لینے کا کوئی بھی موقع نہیں گنواتی خاموش کیوں ہے۔ اس ضمن میں سب سے دلچسپ بات وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ غداری کا مقدمہ نواز لیگ ہی کے کسی رکن نے دائر کیا ہو۔ ممکن تو یہ بھی ہے کہ پانچ سال تک بھارت کے ٹکڑوں پر پلنے والے خاندان کے کسی فرد نے یہ گستاخی کی ہو۔