حضور ﷺ کی ناموس اور صحابہ ؓ کی شان کے تحفظ کیلئے ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، سراج الحق

188

لاہور:جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں علماءو مشائخ رابطہ کونسل پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ میلاد مصطفی ﷺ کانفرنس میں شریک ملک بھر کے معروف علماءو مشائخ اور درگاہوں کے سجادہ نشین حضرات نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے اتحاد امت و قومی یکجہتی کے عزم کو سراہتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ دفاع ملک و ملت کے مبارک کام کا بیڑا انہوں نے اٹھایا ہے ملک بھر کے علماءو مشائخ اور پاکستان میں رہنے والے ہندو سکھ ،عیسائی سب شانہ بشانہ اور قدم بقدم اس کا ساتھ دیں گے ۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی دیوان موعود مسعودجبکہ صدارت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کی۔امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ فرانس کے بدبخت صدر کو حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات اس لئے ہوئی کہ عالم اسلام کے غیرت وحمیت سے عاری حکمران بے حسی کی چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے ہیں،صرف ترکی کے صدر اردوان نے جرات کا مظاہرہ کیا مگر باقی اسلامی دنیا میں کہیں جنبش نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کی ناموس کے اور صحابہ ؓ کی شان کے تحفظ کیلئے ہمیں اتحاد یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پیغام کو پوری امت تک پہنچانا ہوگا،پاکستان کی سا لمیت اور دفاع بھی خاتم الانبیا ءحضرت محمد ﷺ کی ناموس اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے دفاع سے جڑا ہوا ہے،پاکستان کی اسلامی و نظریاتی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے اسے فروغ دینے نے ہماری مشکلات اور مسائل کا حل ہے۔

انہوں نےکہا کہ دنیا میں پونے دو ارب عاشقان اور غلامان مصطفی ﷺ ہیں مگر عالم اسلام پر بھی عالمی استعمارکا نظام مسلط ہے، ہمیں آقا ئے دوجہاں ﷺ سے محبت و عقیدت اور اطاعت کا ثبوت دیتے ہوئے ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے اپنی ناقابل فہم پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے،عوام مہنگائی ،بے روز گاری اور دکھوں کی گٹھڑیاں اٹھائے بے بس ہوچکے ہیں،وزیر اعظم عوام کو صبر کی تلقین کیساتھ خیالی خوشخبریاں دے رہے ہیں،عمران خان کا دوسال بعد کہنا کہ بالآخر ہم درست سمت میں چل پڑے ہیں قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔

انہوں نےکہا کہ عالمی سامراج کی غلامی کی وجہ سے ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم کشمیر پر انڈیا کا قبضہ ختم نہیں کرواسکے،اگر ہم آزاد اورخود مختار ہوتے تو آج ہمارے فیصلے آئی ایم ایف اور فیٹف نہ کررہے ہوتے،اگر ہم اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے راستے پر نہ چلے اور باغیانہ روش سے باز نہ آئے تو ہمارے پاس اگر کوہ ہمالیہ جیسے اسلحہ کے پہاڑ ہوں تب بھی ہمارا کوئی وزن نہیں ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سودی معاشی نظام نے ہماری معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے مگر حکمران سود جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے اس سے باز نہیں آرہے ۔ہماری عدالتوں میں قرآن کے مطابق فیصلے نہیں ہوتے ،ہمارے تعلیمی اداروں میں مخلوط نظام تعلیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تنہایہ کام نہیں کرسکتی ،ہم تحریک چلاسکتے ہیں ،سر ٹکرا اورجیلوں میں جاسکتے ہیں مگر اکیلئے اس سامراجی نظام کو نہیں بدل سکتے ۔انہوں نے کہا کہ فساد کی جڑ عالمی سامراجی قوتوں کے غلام حکمرانوں کی حکومت ہے ۔حکومت پیپلز پارٹی کی ہو ،مسلم لیگ یا پی ٹی آئی کی ،یہ سارے مدینہ کی طرف نہیں واشنگٹن کی طرف دیکھتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے گستاخوں کو سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی ملک سے فرار کرایا،اگر ہماری حکومت ہوتی تو نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو اس طرح بھاگنے کا موقع نہ ملتا،اس لئے اولیا ءمشائخ سے یہی درخواست ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی تحریک کی قیادت کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مندر کیلئے سابق وزیر اعظم نے دوسو ملین کی زمین دی اور موجودہ نے تعمیر کیلئے ایک سو ملین کی خطیر رقم فراہم کی،حالانکہ وفاقی شرعی عدالت اور جید علماءکا فتوی ٰ ہے کہ مندر کی تعمیر کیلئے مسلمانوں کے ٹیکسوں کے پیسے سے رقم دینا حرام ہے، میری لڑائی کسی مفاد کیلئے نہیں بلکہ سود ،مہنگائی بے روزگاری اور سامراجی قوتوں کی غلامی سے ملک کو آزاد کرانے کیلئے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی پراپرٹی ،شوگر مل یا نیب کا مسئلہ نہیں ،میرامسئلہ ملک کے 22کروڑ عوام کو لٹیروں اور کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلانا ہے ۔

دریں اثناءجماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے فرانس میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شانِ اقدس میں ایک مرتبہ پھر سرکاری دیواروں پرگستاخانہ خاکے چھاپے جانے اور فرانس کے صدر کی سے گستاخانہ بیان اور سرپرستی کے خلاف تحریک التواء سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے۔