بچوں میں موجود کورونا بڑوں کو زیادہ متاثر کرسکتاہے، ماہرین

192

 معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر جمیل اختر کا کہنا ہے کہ بچے کورونا وائرس سے خود تو کم متاثر ہوتے ہیں، لیکن بڑوں اور بوڑھوں کو انفیکٹ زیادہ کرتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سینٹر کے خازن پروفیسر ڈاکٹر جمیل اخترنے کہاکہ ایسے حالات میں زیادہ بہتر یہی ہے کہ پرائمری کلاسز کے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے گھروں میں تعلیم دی جائے۔

ڈاکٹر جمیل اختر کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں دس سال سے کم عمر کے محض اعشاریہ تین فیصد (%0.3) بچوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ بیس سال تک کے صرف اعشاریہ پانچ فیصد (%0.5) بچے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں میں کورونا وائرس سے اموات کی شرح انتہائی کم ہے۔

ماہر امراض اطفال نے مزید کہاکہ احتیاطی تدابیر کے بغیر اسکول کھلنے اور چھوٹے بچوں کے آپس میں گھلنے ملنے کے نتیجے میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے کا خدشہ ہے،

پروفیسر جمیل اختر کا کہنا تھا کہ بچوں میں کورونا وائرس کی علامات بڑوں کے مقابلے میں نہایت مختلف ہوتی ہیں، بچوں میں کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں نزلہ زکام کی علامات سے لے کر پیٹ کی خرابی اور الٹیوں سمیت “کاواساکی ڈیزیز” تک کی علامات پائی گئیں ہیں، بدقسمتی سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے ٹیسٹ بہت کم کیے گئے ہیں، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں میں کورونا وائرس کی علامات اور ان کے اس مرض سے محفوظ رہنے کے حوالے سے جامع تحقیقات کی جائیں۔

پروفیسر جمیل اختر  نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیس بڑھنا شروع ہوگئے ہیں اور سردی کے موسم میں بچوں کے اسکول جانے کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے، تنگ کمروں پر مشتمل کلاسز میں ضرورت سے زیادہ بچوں کے بھرے ہونے اور دیگر مسائل کی وجہ سے کیسز میں انتہائی اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔