کوٹری اور نوری آباد کے محنت کشوں کے بنیادی مسائل

80

تحریر -:منیر احمد جتوئی
سائٹ کوٹری پاکستان کے چند قدیم صنعتی علاقوں میں سے ایک بڑا علاقہ ہے اور اس علاقے میں ٹیکسٹائل انڈسٹری بڑے پیمانے پر قائم ہے. اسی طرح سے کراچی اور حیدرآباد کے وست میں نوری آباد صنعتی علاقہ قائم کیا گیا تھا اور یہ صنعتی علاقہ بھی پاکستان کے بڑے صنعتی علاقوں میں سے ایک ہے نوری آباد کے اس صنعتی علاقے کو تین فوائد حاصل ہیں نمبر1یہ صنعتی علاقہ کراچی اور قاسم پورٹ کے قریب ہے دوسری یہ کے مین پاور کے لحاظ سے خاص طور پر ٹیکنیکل اسٹاف کراچی اور حیدرآباد سے آسانی سے میسر آجاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی قائم صنعتوں کو مین پاور کی کمی نہیں ہوتی ہے کیونکہ کراچی ٹول پلازہ اور حیدرآباد ٹول پلازہ سے آدھے گھنٹے کا سفر ہے اور اکثر ملازمین روزانہ حیدرآباد اور کراچی سے کام کرنے کے لیے آتے اور جاتے ہیں نوری آباد کے صنعتی علاقے کے قریب پاکستان کی سیمنٹ کا سب سے بڑا کارخانہ لکی سمیٹ بھی قائم ہے۔ سائٹ کوٹری اور سائٹ نوری آباد میں ہزاروں محنت کش کام کرتے ہیں لیکن 50فیصد سے زائد محنت کش بھرتی لیٹر سے محروم ہیں۔ جبکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ جس کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ اسٹینڈنگ آرڈر آرڈیننس سندھ 2015 کے تحت ہر ملازم کو اول روز سے بھرتی لیٹر جاری کرنا یہ آجر کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اسی قانون کے تحت لیبر ڈیپارٹمنٹ لیبر کورٹ میں قانونی کارروائی کرنے کا مجاز ہے جس کی سزائیں ہیں بلکہ سزائیں اس حد تک یہ جرم قائم رہے تو روزانہ بنیادوں پر آجر پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ کوٹری اور نوری آباد کے محنت کش سوشل سیکورٹی کے بنیادی علاج معالجہ کی سہولت سے بھی محروم ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر فیکٹریوں میں ٹھیکہ داری نظام کی وجہ سے سوشل سیکورٹی میں اندراج نہ ہونے کے برابر ہے نیز سوشل سیکورٹی کا نظام اس طرح سے قائم ہے کہ بہتر علاج کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے اور ورکر کو اکثر سرکاری اسپتال میں ریفر کردیا جاتا ہے جس کے بعد ان وکرز کو جن کو ریفر کیا جاتا ہے۔ میڈیکل اخراجات اور قانون کے مطابق میڈیکل چھٹیوں کی سوشل سیکورٹی کی جو ذمہ داری ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے، کئی مرتبہ شکایت کرنے کے باوجود سوشل سیکورٹی کے ادارے کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ محنت کشوں کے چندے سے چلنے والا یہ ادارہ کرپشن کی وجہ سے انتہائی بدنامی کا باعث بن چکا ہے دونوں صنعتی علاقو ں کے محنت کش EOBIکی پنشن سے صرف نہ محروم ہیں بلکہ پنشن بک بنانا انتہائی مشکل ہے اور EOBI کا ریجنل ڈائریکٹر جس کا دفتر سائٹ کوٹری میں واقع ہے کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے اور بروکر کے ذریعے پنشن آسانی سے مل جاتی ہے۔ دوسری صورت میں کئی کئی سالوں تک چکر کاٹنے کے باوجود بیوائیں یتیم بچے اور ورکرز پنشن سے محروم ہیں نیز50فیصد سے زائد ورکرز کا اس ادارے میں اندراج ہی نہیں ہے جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ یہ ہی صورتحال ورکرز ویلفیئر بورڈ کی ہے ورکر جہیز گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ، ورکز کے بچوں کی اسکالرشپ کی ادائیگی برائے نام ہے اور اس کی ادائیگی میں ورکرویلفیئر بورڈ حیدرآباد آفس ہزاروں روپے رشوت لیتا ہے، اس صورتحال میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو کئی مرتبہ توجہ بھی دلائی گئی ہے لیکن اچھائی کے بجائے محنت کش مشکلوں سے دو چار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کا دعویٰ کرنے والی صوبائی اور مرکزی حکومت صرف دعووں تک محدود ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔