ملک کی تقدیر بدلنے کا وقت آگیا، کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے والا ہے،مریم نواز

212

کوئٹہ: مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا وقت آگیا،کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے والا ہے،اب ملک میں غداری کے سرٹیفیکیٹ نہیں بٹیں گے، ماں کے سپوت، بہنوں کے بھائی لاپتہ نہیں ہونگے۔

کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں اپوزیشن مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے تیسرے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ دنیا کے اربوں مسلمان جب ربیع الاول کا مہینہ منارہے ہیں تو ایسے میں فرانس میں گستاخانہ خاکے بنائے گئے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، اس سے ہماری دلوں کو دکھ پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ 12روز سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے لیکن کسی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی حالانکہ سوئی سے نکلنے والی گیس سے پورے پاکستان کو ملتی ہے لیکن چند کروڑوں کی اسکالر شپ کے لیے بلوچستان کے طلبہ کو نہیں دی گئی۔ مریم نواز نے کہا کہ بلوچستان میں جوانوں کو اٹھالیا جاتا ہے، جب میں اسٹیج پر آرہی تھی ایک بچی آئی اور انہوں نے کہا کہ ان کے تین بھائیوں کو لاپتہ کردیا گیا ہے اور وہ والدین کے کفیل تھے،یہ انتہائی شرم ناک ہے واقعہ ہے، میں اپنے والدہ کی وفات اور والد کو جیل بھیجنے پر نہیں روئی تھی لیکن آج اس واقعے پر میں روئی ہوں۔

بلوچستان میں حکمران کسی اور کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے

مریم نواز نے کہا کہ آج جب میں یہاں خطاب کررہی ہوں تو قائد اعظم کے اسٹاف کالج میں خطاب یاد آتا ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ پالیسی بنانا تمھارا کام نہیں،یہ کام عوامی نمائندوں کام ہے اور ان کو کرنے دو، کیا 72برسوں میں قائد اعظم کی اس بات پر عمل ہوا، کیا سیاست پر مداخلت بند ہوئی، کیا عوامی نمائندوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی تقریر کومٹی میں ملادیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے ووٹ کو عزت دو، اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرو، سیاست سے دور ہوجائے، ریاست کے اوپر ریاست مت بنائو، عوام کے مینڈیٹ کو مت چھینو۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی آج کی حالت اس لیے ہوئی ہے کیونکہ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی، یہاں پر حاکم کسی اور کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، وہ عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، اگر ہم نے اس کو نہیں روکا تو خدا نخواستہ ہماری آزادی کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔

سلیکٹڈ اس کے سلیکٹرز کو جسٹس فائز عیسی کیس میں تاریخی ناکامی پر استعفیٰ دینا چاہیے

مریم نواز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ بلوچستان کے عظیم فرزند کی بھی یاد آرہی ہے جس کا نام قاضی محمد عیسیٰ ہے اور ان کا قابل فخر فرزند آج سپریم کورٹ کا جج ہے۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا جس نے بدنیتی کی اور ججز پر دھبہ لگانے کی کوشش کی، ہم سب مل کر سلیکٹڈ عمران خان اور اس کے سلیکٹرز کو کہتے ہیں، آپ کو اِس تاریخی ناکامی پر استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتی ہوں کہ اسی طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دیا جائے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے، ووٹ کو پاؤں تلے روندنے کا سلسلہ بند اور کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔

عاصم باجوہ بتائیں نوکری پیشہ ہونے کے باوجود اربوں کے اثاثے کہاں سے آئے

مریم نواز نےچیئر مین سی پیک اتھارٹی عاصم باجوہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ الف لیلی کا ایک کردار عاصم سلیم باجوہ بھی یاد آرہا ہے جو یہاں حاکم رہا، ہم ان سے پوچھتے ہیں نوکری پیشہ ہونے کے باوجود اربوں کے اثاثے کہاں سے آئے، پیزے کہاں سے آئے، تمھارے اور تمھارے خاندان کے اربوں کہاں سے آئی،ایس ای سی پی کے دستاویزات پر رد وبدل کی اور جعلی سازی کیوں کی تو وہ چپ ہے لیکن سلیکٹڈ عمران خان بھی نہیں پوچھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کے خلاف کوئی نیب، ایف آئی اے اور ادارے خاموش ہیں لیکن ایسے نہیں چلے گا۔