گستاخانہ خاکوں کے خلاف سوشل میڈیا پر “بائیکاٹ فرانس” مہم

823

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور اسلام مخالف رویہ کے خلاف دنیا بھر کے مسلمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “بائیکاٹ فرانس” مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ بائیکاٹ “فرنچ پروڈکٹس” اور “بائیکاٹ فرانس” کے ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

بائیکاٹ کی مہم کے بعد کویت کی مارکیٹوں سے فرانسیسی مصنوعات ہٹالی گئیں ۔

کئی ٹوئٹر صارفین حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ احتجاجاً ملک سے فرانسیسی سفر کو بےدخل کیا جائے۔

“فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے، جسے علاج کی ضرورت ہے”

گزشتہ روز سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اسلام دشمنی کے چکر میں یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اسلام دشمنی یورپ کو لے ڈوبے گی اور وہ خود اس چکر میں پڑ کر اپنے آپ کو ختم کر لے گا۔ مسلمان مخالف اتحاد یورپین ممالک کو ڈوبو دے گا۔ یورپ اسلام اور مسلمان دشمنی کی اس بیماری سے جلد ہی باہر نہ آیا تو پورا یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔

ترک صدر نے فرانسیسی صدر میکرون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کیخلاف بیان بازی کرنے والا فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے جسے علاج کی ضرورت ہے۔

طیب اردوان نے پیش گوئی کی ہے کہ متعصبانہ سوچ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کو انتخابات میں شکست ہوگی۔ 2022 کے بعد میکرون فرانس کے صدر نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکے دکھانے والے ایک استاد کو ایک مسلمان نوجوان کی جانب سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد فرانسیسی صدر کی جانب سے مسلمانوں کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے فرانس میں مسلمانوں کیخلاف سختیاں کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

فرانس میں گزشتہ چند روز کے دوران کئی مساجد کو زبردستی بند کروا دیا گیا ہے جبکہ مسلمانوں پر مزید پابندیاں بھی عائد کیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی صدر نے یہ شرمناک اعلان بھی کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

اس تمام صورتحال میں فرانس کیخلاف دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں، بیشتر اسلامی ممالک کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کے ملک سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کر دیا جائے۔

گزشتہ دنوں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو نجی شعبے میں بھی لاگو کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسلام ایک مذہب کے طور پر دنیا بھر میں بحران کا شکار ہے، وہ فرانس کی سیکولر اقدار کو ’سخت گیر اسلام‘ سے محفوظ بنائیں گے۔