سوڈان،سیاسی جماعتوں نے اسرائیل سے تعلقا ت کا فیصلہ مسترد کردیا

131

خرطوم (رپورٹ: منیب حسین) امریکی ایما پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان نے سوڈان میں نیا سیاسی بحران پیدا کردیا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سوڈانی کی کئی سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے نیم فوجی حکومت کے اس اقدام کو شرم ناک قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی عبوری حکومت کو ایسا کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک نسل پرست غاصب ریاست ہے، جسے تسلیم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ ملک میں انقلاب لانے والے سیاسی اتحاد ’’آزادی اور تبدیلی کی قوتوں‘‘ نامی اتحاد میں شامل سابق وزیراعظم صادق مہدی کی جماعت قومی حزب الامت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ بیرونی دباؤ کا شاخسانہ ہے۔ حزب کے رہنما ابراہیم الامین نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت عبوری حکومت پر اپنا اعتماد واپس لے لے گی۔’’آزادی اور تبدیلی کی قوتوں‘‘ کی ایک اور اہم جماعت ’’قومی قوتوں کی وحدت کا اتحاد‘‘ نے اس فیصلے کو سوڈان کے دستور کی صریح خلاف ورزی اور ملکی نظریات کی بنیادیوں سے انحراف قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت نے جمعہ کے روز امریکا، اسرائیل اور سوڈان کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں سوڈان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کا اعلان تھا۔ ٹرمپ نے سوڈانی اور اسرائیلی وزرائے اعظمسے ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی۔