غیر آئینی ریفرنس پر صدر مملکت کی پوزیشن خراب

234

عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف صدارتی ریفرنس غیر آئینی تھا۔ عدالت نے خفیہ معلومات افشا کرنے پر وزیر قانون، چیئرمین ایف بی آر اور ایسیٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔ جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ 19 جون 2020ء کو یہ ریفرنس کالعدم قرار دے کر خارج کردیا گیا تھا۔ اب اس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہوا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیار استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ ججوں کے خلاف ریفرنس کو خفیہ رکھنے کا کوئی آئینی جواز نہیں۔ جب کہ شہزاد اکبر کا ایسیٹ ریکوری یونٹ غیر قانونی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس فیض آباد دھرنے کے تناظر میں نہیں ان کی اہلیہ کی لندن میں جائدادوں کے تناظر میں دائر کیا گیا ہے۔ عدالت کے 224 صفحات کے فیصلے میں بہت سے نکات پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ بھی واضح کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز کی اہلیہ سرینا کے خلاف ریفرنس میں غلطیوں کو بھر مار ہے۔ وہ پبلک سرونٹ نہیں ہیں ان کا کیس جوڈیشل کونسل میں نہیں چل سکتا۔ ان کے ٹیکس ریٹرن کی خفیہ معلومات کو افشا کرنا جرم ہے جس پر وزیر قانون فروغ نسیم، معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر اور چیئرمین ایف بی آر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ حکومت کا ایک اور احتساب ڈراما فلاپ ہوگیا۔ اس بات پر بحث کرنا بڑا مشکل ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کو کیوں نشان بنایا گیا اور اس کے کیا محرکات تھے لیکن جو باتیں ریفرنس میں ظاہر کیں اور جو باتیں فیصلے میں سامنے آئی ہیں ان کے نتیجے میں تو معاملہ جسٹس فائز عیسیٰ، وزیر قانون اور معاون خصوصی یا سرکاری افسروں تک نہیں رہتا۔ عدالت جس ریفرنس کو غیر آئینی اور خلاف قانون قرار دے رہی ہے اس پر دستخط کرنے والے صدر مملکت کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی گئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ صدر مملکت اچھی پارلیمانی روایت قائم کرتے ہوئے خود اس غلطی کا اعتراف کریں اور ایک معزز جج کے خلاف غیر آئینی ریفرنس داخل کرنے پر استعفا دے دیں۔ یہ بات تو عدالتی فیصلے میں بھی کہی جانی چاہیے تھی۔ اگر صدر کوئی غیر آئینی کام کرے تو عدالت عظمیٰ اس بارے میں کیا کہے گی۔ خصوصاً اس صورت میں کہ عدالت ہی کے ایک معزز جج کے خلاف غیر آئینی ریفرنس جاری کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے حکومت اور اس کے سرپرستوں کا ایک اور امتحان سامنے آگیا ہے کہ آیا وہ چیئرمین ایف بی آر، پسندیدہ وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی شہزاد اکبر کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یا نہیں۔ صدر مملکت کو تو وہی کرنا چاہیے جو ان کی پارٹی حکومت میں آنے سے قبل مطالبات اور سیاسی جلسوں میں کہا کرتی تھی۔ نہایت غیر اخلاقی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا جاتا تھا کہ ایسے لوگوں کو خود گھر چلے جانا چاہیے۔ لیکن اب ایک غیر آئینی ریفرنس دائر کرنے پر صدر مملکت کیوں محفوظ اور دو تین چھوٹے لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں۔ عدالت نے جو 11 وجوہات اس ریفرنس کو غیرآئینی قرار دینے کی بیان کی ہیں ان میں غیر قانونی ایڈوائس، صدر کا مشورہ نہ کرنا، اپنی رائے نہ دینا، صدر کا ریفرنس کے نقائص کو نہ سمجھنا شامل ہے جب کہ ریفرنس کے ساتھ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ منی لانڈرنگ کے الزام کے حق میں کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی۔ اگر پاکستان میں اسلامی قوانین نافذ ہوتے تو یہ ریفرنس دائر کرنے والوں کے خلاف حد جاری ہوجانی چاہیے تھی۔ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ریفرنس دائر کرنے کے پیچھے کچھ اور مقاصد تھے۔ عدالت نے البتہ یہ قرار دیا ہے کہ ریفرنس کو بدنیتی پر محمول قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن پھر کیا قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں کوئی قانونی ماہر حکومت اور قوم کی رہنمائی کردے تو اچھا ہے۔ ریفرنس بدنیتی پر مبنی نہیں تھا اگر ہوتا بھی تو بدنیتی کی سزا کیا تجویز ہوتی۔ اصل سزا تو غیر آئینی اور غیر قانونی ریفرنس کی ہے۔ پاکستان میں ابھی عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ اتنی طاقتور نہیں کہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ کس قوت نے ایک معزز جج کے خلاف ریفرنس دائر کروایا اور آئینی و قانونی تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ ہر آنے والے دن یہ بات ثابت ہوتی جارہی ہے کہ ملک میں پی ٹی آئی نہیں کوئی اور حکومت کررہا ہے۔ ایسی حکومت محض اپنے لیے خطرہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی نااہلی کی وجہ سے ملکی نظام میں بھی دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور قومی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب بھی تھوڑا بہت وقت ہے تمام معاملات کا ازسرنو جائزہ لے کر ہر ادارے کے سمجھدار لوگ معاملات کو درست راستے پر ڈال دیں۔