عدالت عظمیٰ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا

40

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لیتے ہوئے احتساب عدالت
سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگ لیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ میں ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی‘ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی۔ عدالت عظمیٰکا کہنا تھا کہ ملزمان کے معاشرے یا ٹرائل پر اثرانداز ہونے کا خطرہ ہو تو ہی گرفتار رکھا جا سکتا ہے‘ پرتشدد فوجداری اور وائٹ کالر کرائم کے ملزمان میں فرق کرنا ہوگا‘ نیب ملزمان کے کنڈکٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے احتساب عدالت لاہور سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آگاہ کیا جائے استغاثہ کے تمام 38 گواہان کے بیانات کب تک ریکارڈ ہوں گے؟عام طور پر نیب مقدمات میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ اور بھی طریقے استعمال ہو سکتے ہیں‘ ان کے پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹس اور جائداد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ملزم کے وکیل عابد ساقی کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے مطابق ان کے پاس80 ریفرنس زیرالتوا ہیں‘ اگست 2020ء میں ملزم پر فرد جرم عاید کی گئی‘ ملزم 14 ماہ سے نیب حراست میں ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اگر 80 مقدمات ہیں تو اس کیس کی باری کب آئے گی؟۔ نیب پراسیکیوٹر نے یقین دہانی کرائی کہ نیب کسی ریفرنس میں بھی تاخیر نہیں کر ے گا‘ لیکن صرف تاخیر پر ضمانتیں ہوئیں تو ہر ملزم ضمانت مانگے گا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے پر نیب کو عمل کرنا ہوگا‘ نیب کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت پر اعتراض ہے تو نظرثانی کی درخواست دائر کرے۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے فیصلے پر خوش ہیں‘ نیب بھی چاہتا ہے کہ مقدمات جلد ختم ہوں۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔