جرمنی،دوران نماز 150 پولیس اہلکاروں کا مسجد پر دھاوا

127

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی میں دورانِ نماز پولیس اہل کاروں نے مسجد پر دھاوا بول دیا اور عبادت گاہ کی بے حرمتی کی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس کے 150 سے زائد نقاب پوش اہل کاروں نے عین اس وقت چھاپا مارا، جب مسجد میں باجماعت نماز ادا کی جا رہی تھی۔ اہل کار ’میولانا‘ مسجد میں جوتوں سمیت فجر کے وقت داخل ہوئے اور عبادت گاہ کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھومتے اور مختلف مقامات کی تلاشی لیتے رہے، جس کے بعد مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جرمن پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وبا کے دوران دھوکا دہی کے ذریعے رعایت حاصل کرنے کے معاملے میں تفتیش کے لیے مسجد میں چھاپا مار کارروائی کی گئی اور اس دوران چند دستاویزات تحویل میں لی گئی ہیں۔ دوسری جانب مسجد کمیٹی نے اپنے بیان میں کورونا وائرس سے متعلق رعایت حاصل کرنے میں دھوکا دہی کے الزام کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوتے پہنے اہل کاروں نے نہ صرف مسجد کے تقدس کی بے حرمتی کی بلکہ مسجد سے 7 ہزار یورو، کمپیوٹرز، دستاویزات اور موبائل بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اُدھر ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں جرمن دارالحکومت برلن کی میولانا مسجد پر پولیس اہل کاروں کی چھاپا مار کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ محض ایک مسجد پر نہیں بلکہ جرمنی میں مقیم 50 لاکھ مسلمانوں پر ہے۔ واقعے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب کہ مقامی سطح پر پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔