ٹوئٹر نے وادی لیہ کو چین کا حصہ دکھادیا،بھارت برہم

140

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) سماجی رابطے کی معروف اور بڑی ویب سائٹ ٹوئٹر نے مقبوضہ وادیٔ جموں وکشمیر کے علاقے لیہ کو چین کا حصہ دکھا دیا، جس پر نئی دہلی سرکار کو آگھ لگ گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بھارت نے اپنے زیرقبضہ خطہ لداخ کے مرکزی شہر لیہ کو چین میں دکھانے پر ٹوئٹر کے سربراہ کو ایک خط لکھا ہے، جس میں مودی سرکار نے کہا ہے کہ اسے غلط نقشہ قطعی منظور نہیں ہے۔ مودی سرکار نے سیخ پا ہوتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کو بھارتی عوام کے احساسات کا خیال رکھنا چاہیے۔ جب کہ بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک اور ٹوئٹر جیسی کمپنیوں کو وضاحت کے لیے طلب کرلیا ہے۔ ٹوئٹر نے اپنی لوکیشن سیٹنگ میں خطہ لداخ کے مرکزی شہر لیہ کو چین میں دکھایا تھا۔ لیہ شہر سے ایک براہ راست نشریاتی پروگرام کے دوران اس کے جیو ٹیگنگ فیچر میں لیہ کو ’’جموں اینڈ کشمیر عوامی جمہوریہ چین‘‘ کے نام سے دکھائی دے رہا تھا۔ اس پر سوشل میڈیا کے بہت سے بھارتی صارفین نے طوفانِ بدتمیزی کھڑا کردیا، جس کے بعد بھارتی حکومت نے بطور احتجاج ٹوئٹر کے سربراہ جیک ڈروزی کے نام ایک خط تحریر کیا۔ بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت میں سیکرٹری اجے سہوانی نے ٹوئٹر کے سربراہ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ اس نقشے سے صاف ظاہر ہونے والی بھارت کی خود مختاری اور اس کی سالمیت کی توہین کی کوئی بھی کوشش قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم مودی سرکار نے خود بین الاقوامی قوانین اور قرارداروں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر پر قبضہ کرکے اسے اپنی یونین میں ضم کیا ہوا ہے۔