میرپورخاص،ریلوے عملے کا مسافروں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ

156

میرپور خاص (نمائندہ جسارت) میرپور خاص ریلوے اسٹیشن پر قائم ریزرویشن آفس مسافروں کے لیے وبال جان بن گیا، ریزرویشن آفس پر تعینات عملہ کا مسافروں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ ،بکنگ کے لیے آنے والے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ آن لائن سسٹم خراب ہے۔ میرپور خاص ڈویژن کا واحد ریلوے بکنگ آفس جہاں دور دراز کے علاقوں میرواہ گورچانی، ڈگری، ٹنڈو جان محمد، جھڈو، نوکوٹ اور تھرپارکر سے لوگ سفر کرنے کے لیے اپنے علاقوں سے بھاری خرچہ اور وقت ضائع کر کے ٹکٹ بکنگ کے لیے آتے ہیں مگر بکنگ آفس پر موجود خاتون کلرک کے انتہائی ہتک آمیز رویے سے پریشان ہوجاتے ہیں۔ میرواہ گورچانی کے رہاشی مقصود عالم اور دیگر نے بتایا کہ ہم میرواہ گورچانی سے میرپور خاص ریلوے اسٹیشن پر ایک ماہ قبل فیصل آباد کے لیے ٹکٹ بک کرانے آئے تھے بکنگ پر موجود خاتون کلرک نے کہا کہ آن لائن سسٹم خراب ہے، کل آنا، دوسرے دن بھی یہی جواب ملا اور اب ایک ماہ بعد دوسری بار فیصل آباد جانے کے لیے جب ٹکٹ بک کرانے آئے تو یہی جواب تیسری بار ملا کہ آن لائن سسٹم میں خرابی ہے، جب ہم نے پوچھا کہ کب تک ٹھیک ہو جائے گا سسٹم تو جواب دیا جاتا ہے کہ جاکر شیخ رشید سے معلوم کرو ہم کوئی تمہارے نوکر نہیں ہیں جو ہر سوال کا جواب دیں۔ ذرائع کے مطابق میرپور خاص ریلوے بکنگ آفس ڈویژن کا واحد بکنگ آفس ہے، جہاں ضلع تھر پارکر ضلع عمرکوٹ اور ضلع میرپور خاص کے ہزاروں لوگ ٹکٹ بکنگ کے لیے بھاری اخراجات کے ساتھ ساتھ اپنا ٹائم بھی ضائع کرتے ہیں مگر ریلوے بکنگ آفس پر بکنگ پر ہتک آمیز رویے سے لوگ وفاقی حکومت کو برا بھلا بولتے ہیں۔ بکنگ آفس میں بکنگ کے لیے آنے والوں کو کوئی سہولیات بھی نہیں، یہاں تک کہ پینے کے پانی کی سہولت بھی نہیں دی جاتی، لوگوں کی شکایت سننے والا کوئی نظر نہیں آتا، عملے کا ہتک آمیز رویہ لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کریں جس کی وجہ سے محکمہ ریلوے کو یومیہ ہزاروں جبکہ ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ میرپور خاص تھر پارکر اور عمرکوٹ اضلاع کے لوگوں نے وفاقی وزیر شیخ رشید اور ڈی ایس ریلوے ارشد اسلام خٹک سے مطالبہ کیا ہے کہ میرپور خاص ریلوے بکنگ آفس پر کسی اچھے اور ذمے دار کلرک کو تعینات کیا جائے اور لوگوں کی بکنگ کے حوالے سے پریشانی کو دور کیا جائے۔