نہ یہ درست نہ وہ درست (آخری حصہ)

266

سیاسی حکومتیں ہوں یا فوجی، نج کاری کو امرت دھارا سمجھتے ہوئے اس پر یوں عمل کرتی ہیں گویا تمام مسائل کا صرف یہی ایک حل ہے۔ واپڈا ہو یا بجلی کے کارخانے اور تیل وگیس کی کمپنیاں سب ریوڑیوں کی طرح ارزاں داموں میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بیچ دی گئیں۔ جس کا نتیجہ مہنگی بجلی اور گیس کی صورت میں عوام بھگت رہے ہیں۔ نج کاری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کی زراعت اور صنعت مفلوج ہو چکی ہے۔
سیاست دان برسر اقتدار ہوں یا فوجی ڈکٹیٹر، کشمیر کسی کی ترجیح نہیں۔ اہل کشمیر سے کوئی مخلص نہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ کی تکرار سب کرتے رہتے ہیں لیکن کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے ایک قدم اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ فوجی حکومتیں بھی آئیں اور سویلین بھی لیکن اہل کشمیر کے قتل عام اور بربادیوں کے بدلے افواج پاکستان کو متحرک کرنا تو درکنار کسی نے بھارت کی طرف ایک گولی فائر کرنے کی جرأت نہیںکی۔ افغانستان کے معاملے میں بھی سویلین اور فوجی قیادتیں امریکا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہیں۔ سب ہی امریکی اہداف کے حصول کے لیے افغان مجاہدین کو سیکولر نظام کا حصہ بنانے کے لیے کوشاںہیں تاکہ امریکا کے نکل جانے کے بعد بھی افغانستان کفر کے چنگل سے نہ نکل سکے اور اسلام کبھی نافذ نہ ہوسکے۔ ویسے ہی جس طرح برطانیہ کے نکل جانے کے 73برس بعد بھی پا کستان نفاذ اسلام سے کوسوں دور ہے۔
FATF قوانین جیسے عالمی ایجنڈے پر عمل کرنا ہو یا استعماری طاقتوں کے مفاد میں قوانین پاس کروانے کا معاملہ، سول اور فوجی حکومتیں ایک ہی پیج پر ہوتی ہیں۔ جب مرکزی معاملات یا ان معاملات میں جن سے ملک وقوم کی بقا وابستہ ہے سول اور فوجی قیادتوں کا موقف اور طرزعمل یکساں ہے تو سول اور فوجی قیادتوں میں کیا فرق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سول سپرمیسی ہو یا فوجی دونوں ایک ہی نظام کے دو بہروپ ہیں۔ دونوں صورتوں میں قانون اور پالیسیاں بنانے کا اختیار ایک چھوٹے سے ٹولے کے پاس ہوتا ہے خواہ وہ نواز شریف کی کچن کیبنٹ ہو یا زرداری کی۔ فوجی قیادت کے مہرے ہوں یا تحریک انصاف کی کٹھ پتلیاں۔ پی ڈی ایم کی چھتری تلے اپوزیشن ہو، فوجی قیادت ہو یا تحریک انصاف کی ہائبرڈ حکومت ہو، اقتدارکی بندر بانٹ سے عوام کو کچھ نہیں ملتا۔ عوام کی بہبود کسی کی ترجیح نہیں۔ سیاسی یا فوجی حاکمیت اور بالادستی کی آڑ میں طاقتور جتھوں کی آپس کی مفادات کی جنگ ہے۔ یہ دونوں جتھے ایک ہی سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے حکومت کرتے ہیں اور ایک ہی آقا امریکا کے چاکر ہیں۔
بنیادی مسئلہ سویلین یا ملٹری حکومت کا نہیں ہے، مسئلہ سویلین یا فوجی با لادستی کا بھی نہیں ہے مسئلہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہے۔ جس میں اراکین اسمبلی اپنے مفادات کے تحت قانون بناتے اور حکومت کرتے ہیں۔ اللہ کی آخری کتاب میں فرمان باری تعالیٰ ہے ’’اور ان کے درمیان ان احکامات سے حکومت کرو جو اللہ نے نازل کیے ہیں اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کرو (المائدہ، 5:48)‘‘۔ اسلامی نظام حکومت میں کوئی بھی اپنی مرضی، مفاد اور خواہش کے مطابق قانون نہیں بناسکتا۔ قانون بنانا صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کاحق ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہی حکم ہے۔ ان الحکم الاللہ۔ بے شک حکم اسی کا ہے (یوسف12:67)
اسلامی نظام خلافت میں خلیفہ FATFکے قوانین ریاست میں نافذ نہیں کرسکتا کیونکہ ریاست کے اور اس میں رہنے والوں کے معاملات کس طرح چلانے ہیں قرآن وسنت میں ان کا تعین پہلے ہی کردیا گیا ہے۔ ’’مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لوگے تو وہ تم کو الٹے پائوں پھیر کر (مرتد) کردیںگے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جائوگے (آل عمران، 3:149)‘‘۔ اسلامی نظام خلافت میں کسی بھی بیرونی طاقت اور ادارے کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ ’’اور اللہ نے مومنوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ کافروں کو اپنے معاملات میں غلبہ پانے کا موقع دیں (النساء، 4:141)‘‘۔
اسلامی نظام حکومت میں خلیفہ عوامی وسائل بجلی، گیس، تیل اور معدنیات کی نج کاری نہیں کرسکتا۔ عالی مرتبتؐ کا فرمان ہے ’’مسلمان تین چیزوں میں شراکت دار ہیں: پانی، آگ اور چراگا ہیں‘‘ ایک اسلامی حکومت ان چیزوں کی نج کاری نہیں کرسکتی۔ اسی طرح خلیفہ کشمیر کا مسئلہ ہو یا افغانستان کا، طاغوتی عالمی طاقتوں یا اقوام متحدہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑ سکتا۔ ’’اور اللہ نے مومنوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ کافروں کو اپنے معاملات میں غلبہ پانے کا موقع دیں (النساء، 4:141)‘‘۔ سورہ بقرہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہے ’’اور ان کو جہاں پائو قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو (البقرہ، 2:191)‘‘ اسلامی نظام خلافت میں عوام پرنہ تو جنرل سیلز ٹیکس لگایا جاسکتا ہے اور نہ ہی درجنوں دیگر ناجائز غیراسلامی ٹیکس۔ ٹیکس قرآن وسنت سے اخذ کرکے ہی لگائے جاسکتے ہیں۔
مغرب کی طرف سے آئے دن ہماری مقدس شخصیات کی توہین کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ توہین رسالت، قرآن کی آتش زدگی اور مختلف حلقوں کی جانب سے صحابہ کرامؓ کی جناب میں گستاخیاں، ایک تواتر کے ساتھ ان گھنائونے افعال کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ ہماری سول اور فوجی قیادت خالی خولی مذمت اور ڈھیلے ڈھالے اقدامات سے آگے نہیں بڑھتی۔ اسلامی نظام کے نفاذ کی صورت میںکسی کو ایسا کرنے کی جرأت نہیں ہوسکتی اور اگر پھر بھی کوئی ایسی حرکت کرے تو اسلامی قوانین کے مطابق اسے عبرتناک سزادی جاتی ہے۔
سیاسی بالادستی ہو یا فوجی، صدارتی نظام ہو یا پارلیمانی، جمہوریت ہو یا ڈکٹیٹر شپ، عمائدین کی کونسل ہو یا مخلوط سیاسی اور فوجی حکومت (ہائی برڈ حکومت) لاحاصل موضوعات پر بحث ومباحثہ کا ایک گورکھ دھندا ہے جس میں لوگوں کو الجھایا جارہا ہے تاکہ کسی نہ کسی صورت سرمایہ دارانہ اور جمہوری نظام چلتا رہے۔ سیاسی یا فوجی بالادستی ہو یا صدارتی اور پارلیمانی نظام ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ طاقت کا حصول ہے۔ بالادست طبقات کی جانب سے یہ طاقت کے حصول کی جدوجہد ہے۔ وطن عزیز میں حکمرانی کے یہ تمام طریقے آزما کر دیکھے جاچکے ہیں۔ جنرل ایوب خان کی فوجی بالادستی سے لے کر بھٹو کی سیاسی بالادستی اور اب عمران خان کی فوجی اور سیاسی مخلوط بالادستی تک، ہم نے ایک نظام سے تنگ آکر کسی دوسرے ایسے ہی نظام میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلا مزید تباہی، مزید بربادی۔ اگر ہم اب بھی اسی نظام کے کسی بہروپ سے ترقی کی امید لگائیں تو اسے سوائے بیوقوفی کیا کہا جائے گا۔ بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی قیادت کی بالادستی ہو یا فوجی قیادت کی، بحث اور مطالبہ اسلامی نظام کے نفاذ کا ہونا چاہیے۔ حاکمیت اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اسلام کے سوا سب رد ہے۔