عوامی ریفرنڈم

172

جماعت اسلامی کراچی کے تحت حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں عوامی ریفرنڈم کیا گیا۔ گزشتہ جمعہ کو جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے عوامی ریفرنڈم کا آغاز اپنا ووٹ کاسٹ کر کیا۔ عوام میں بھی اس سلسلے میں بڑا جوش وخروش پایا گیا۔ کراچی شہر جو تین کروڑ کی نفوس کی آبادی پر مشتمل شہر ہے اور پورے ملک سے لوگ اپنے روزگار کے لیے اس شہر میں آباد ہیں اور یہ منی پاکستان ہیں۔ یہ شہر پورے ملک کے ریونیو کا 75فی صد سے زائد کا حصہ بھی ادا کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ شہر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اربوں روپے ٹیکس ادا کرنے والاشہر آج پانی، بجلی، گیس، صحت وصفائی جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے۔ اس سلسلے میں غلط مردم شماری نے اس شہر کا استیصال کیا ہے۔
کراچی کی تعمیر اور ترقی کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہی ہیں اور تو اور کراچی کے عوام کے حقوق کے نعرے لگا کر اقتدار سے چمٹے رہنے اور ہر حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے گزشتہ 30برسوں سے سب سے زیادہ اس شہر پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اس شہر کو تباہ کردیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے غیر آئینی طریقے سے ایس آر او جاری کیا اور ایک بار پھرکوٹا سسٹم کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا۔ جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ کوٹا سسٹم ختم کر کے میرٹ کا نظام وضع کیا جائے اورکراچی میں بااختیار شہری حکومت قائم کر کے اسے میگا سٹی کا درجہ دیاجائے۔
جماعت اسلامی کے تحت منعقدہ عوامی ریفرنڈم ان شاء اللہ اس شہر کی تعمیر وترقی کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ کراچی جو پاکستان کی معیشت کا حب ہے لیکن یہاں کی صنعتوں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔ کراچی جو ایکسپورٹ کر رہا ہے اور جو ٹیکس ادا کر رہا ہے اس حساب سے نمک برابر بھی اس کو نہیں دیا جارہا ہے۔ حقوق کراچی ریفرنڈم محض جماعت اسلامی کا ریفرنڈم نہیں بلکہ کراچی کی تین کروڑ عوام کا ریفرنڈم ہے اور یہ کراچی کے عوام کے دلوں کی آواز ہے۔
شہر میں آج ایک بار پھر دیانت دار اور ایمان دار قیادت آجائے تو نہ صرف یہ کہ کراچی کا نقشہ ہی تبدیل ہوجائے گا بلکہ کراچی ترقی اور خوشحالی کی ایک ایسی راہ پر گامزن ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تبدیلی آئے گی۔ عوامی ریفرنڈم کے نتائج کو سامنے رکھ کر کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ کراچی کی درست مردم شماری کر کے آبادی کے حساب سے یہاں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں مقرر کی جائیں۔ ظالمانہ اور جابرانہ کوٹا سسٹم فوری طور پر ختم کر کے کراچی کے عوام کی حق تلفی بند کی جائے۔ کے الیکٹرک نے اول روز سے کراچی کے عوام کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور اس نے لوٹ مار کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرے اور کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیکر میرٹ کی بنیاد پر کمپنیوں کو شامل کیا جائے۔ کراچی کو بین الاقوامی طرز کا ٹرانسپورٹ کا نظام مہیا کیا جائے۔ شہر کراچی میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، اسپورٹس، سالڈ ویسٹ کا مربوط نظام قائم ہو۔ کراچی کے شہریوںکے یہ مطالبات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ حکمرانوں کو اب کراچی کے مسائل حل کرنے ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اپنی ولولہ انگیز قیادت اور جرأت مندانہ جدوجہد کے ذریعے کراچی کے عوام کے دلوں کو جیت لیا ہے اور انہوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے کراچی کے عوام میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ ماضی میں کراچی عبدالستار افغانی اور ابھی 2001 سے 2004 تک سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ اور ان کی پوری ٹیم کی محنتوں کے نتیجے میں چمکتا دمکتا اور چہکتا کراچی پروان چڑھا تھا اور آج پھر شہر کراچی کسی اور نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ اور عبدالستار افغانی کا منتظر ہے۔ جماعت اسلامی کو جب بھی موقع ملا اس نے اس شہر کی عملی خدت کی اور کراچی کو روشنیوں کا شہر بنایا۔ حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے تحت ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج سب کے سامنے آچکے ہیں لہٰذا حکمرانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ کراچی کی عوام کے احساسات اور ان کے جذبات کا احترام کریں اور کراچی کے بنیادی مسائل فوری حل کیے جائیں۔