حقوق کراچی ریفرنڈم کے حتمی نتائج کے بعد 27اکتوبر کو آئندہ کا لائحہ عمل دینگے ،حافظ نعیم

84

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حقوق کراچی ریفرنڈم کے حتمی نتائج کے بعد 27اکتوبر کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ 2017ء کی مردم شماری میں کراچی کے ساتھ بڑا دھوکا ہوا ہے ۔کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیا ۔اس جعلی اور متنازع مردم شماری کو قبول نہیں کیا جائے گا ، اسے درست کرنے کے لیے کراچی میں دوبارہ مردم شماری کرائی جائے ، وزیر اعلیٰ سندھ نے اگر کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI) کے اجلاس میں اس متنازع اور جعلی مردم شماری کی منظوری کی اجازت دی تو جماعت اسلامی سخت رد عمل کا اظہار کرے گی ۔ حقوق کراچی ریفرنڈم میں لاکھوں افراد نے مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کے مطالبات کی حمایت کی ہے ۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کی شب ادارہ نور حق میں قائم مرکزی ریفرنڈم کیمپ میں بیلٹ پیپرز کی گنتی اور نتائج مرتب کرنے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی نے بیلٹ پیپرز کی گنتی اور اب تک کے نتائج کے بارے میں بتایا کہ گنتی کا عمل جمعرات کی شب روک دیا گیا تھا جسے اب دوبارہ شروع کیا گیا ہے اور اندازاً 7.8ملین بیلٹ پیپرز کے نتائج مرتب کر لیے جائیں گے ۔ ریفرنڈم کے لیے 9.5ملین بیلٹ پیپرز جاری کیے گئے تھے ، گنتی کا سلسلہ جاری ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے عمل میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی شریک ہے ۔ اگر مردم شماری کے متنازع اعدادو شمار کو سندھ حکومت کی رضا مندی سے منظور کیا گیا تو ثابت ہو جائے گا کہ مردم شماری کی دھوکا دہی میں بھی پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی ملی بھگت شامل ہے ۔ مردم شماری وفاقی ادارے پاکستان بیورو آف شماریات (PBS)کے تحت ہوئی تھی، اس وقت تو نواز لیگ کی حکومت تھی اگر پی ٹی آئی کو کراچی کے عوام سے ہمدردی ہے اور مسائل حل کرانا چاہتی ہے تو پی ٹی آئی اب مردم شماری کو درست کیوں نہیں کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مردم شماری درست کر لی جائے تو سندھ اسمبلی کی 130نشستوں میں سے آدھی نشستیںکراچی کی ہو جائیں گی اور بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کراچی ریفرنڈم میں مردم شماری کو درست کرنا ایک اہم نکتہ ہے جبکہ دیگر مطالبات بھی کراچی کے گمبھیر مسائل کے حل کا احاطہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم نے مردم شماری کا تجزیہ کیا ہے جس میں بہت سارے سقم موجود ہیں ۔ کراچی کے 14452 بلاکس میں سے 2500بلاکس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ 535بلاکس میں آبادی ووٹرز کی تعداد سے کم ہے ۔ 443بلاکس ایسے ہیں جہاں یہ تناسب 20فیصد ہے۔ ان اعدادو شمار میں بہت خرابیاں ہیں ۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے حق اور درست مردم شماری کے لیے ہر قسم کے جمہوری ، آئینی و قانونی راستے اختیار کر ے گی ۔ عدالتوں سے بھی ازسر نو رجوع کریں گے اور سخت احتجاج کا آپشن بھی موجود ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے کراچی کے مسائل کے حل اور 3 کروڑ عوام کے حقوق کی جدوجہد ملک بھر میں کی ہے، 27ستمبر کو کراچی میں عظیم الشان’’ حقوق کراچی مارچ ‘‘کے بعد 14اکتوبر کو ملک گیر سطح پر ’’یوم یکجہتی حقوق کراچی ‘‘ منایا گیا پھر 16 تا 21اکتوبر کراچی میں ’’تاریخی ریفرنڈم‘‘ کرایا گیا جس میں لاکھوں شہریوں نے جماعت اسلامی کے مطالبات کے حق میں رائے دی ہے ۔ ریفرنڈم کے حتمی نتائج مکمل ہونے کے بعد جاری کر دیے جائیں گے ۔ لاکھوں رائے دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو با اختیار شہری حکومت دی جائے۔ کوٹا سسٹم ختم کیا جائے، نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دی جائے، مردم شماری دوبارہ کرائی جائے، کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لے کر 15سال کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے،کراچی کو بین الاقوامی طرز کا ٹرانسپورٹ کا نظام، تعلیم، صحت، پانی، سیوریج، اسپورٹس اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مربوط نظام فراہم کیا جائے۔مرکزی ریفرنڈم کیمپ پر گنتی کے دوران نائب امرا کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، راجا عارف سلطان ، مسلم پرویز ، سیکرٹری کراچی عبدالوہاب ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر ذمے داران بھی موجود تھے ۔گنتی کے عمل میں شہر بھر سے آنے والے کارکنان و ذمے داران شریک ہیں۔