پاکستان کو فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ

175

پیرس( صباح نیوز)منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو فروری تک بدستور زیرِ نگرانی یعنی ‘گرے لسٹ’ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بات کا فیصلہ ادارے کے 3روزہ اجلاس میں کیا گیا جو جمعہ کو ختم ہوا۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے یہ اجلاس آن لائن منعقد کیا گیا تھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایران اور شمالی کوریا کو بلیک لسٹ میں ہی رکھا جائے گا جبکہ ادارے کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کے بعد آئس لینڈ اور منگولیا کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔اجلاس کے دوران پاکستانی حکام کی طرف سے دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائی اور انہیں معاشی مدد فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ایف اے ٹی ایف کے سربراہ مارکس پلیئر نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان 27 میں سے 21 سفارشات پر عمل کر رہا ہے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی اور اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،اب پاکستان کو فروری 2021ء تک ان تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے جن پر تاحال کام نہیں ہوسکا، جب تک پاکستان باقی 6 سفارشات پر عملدرآمد نہیں کرتا اس کا درجہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یقیناً اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے لیکن اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ رک نہیں سکتا۔سربراہ ایف اے ٹی ایفنے کہا کہ پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ اس وقت تک نہیں ٹلا جب تک وہ ان 6 اہم سفارشات پر عملدرآمد نہیں کر لیتا جن پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔مارکس پلیئرکا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پاکستان بقیہ سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کرتا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام سفارشات پر عمل ہو رہا ہے اور اگر ایسا پایا گیا تو پاکستان کے گرے لسٹ سے اخراج کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔