جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا، تفصیلی فیصلہ جاری

417

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

جسٹس عیسی ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا جو 224 صفحات پر مشتمل ہے، ا جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحیٰ آفریدی نے فیصلے میں الگ نوٹ بھی تحریر کیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کے خلاف ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس نہیں بلکہ لندن جائیدادوں کی بنیاد پر بنا، تاہم صدر آئین کے مطابق ریفرنس دائر کرنے میں صوابدیدی اختیارات کے استعمال میں ناکام رہے، جسٹس قاضی فائزکے خلاف صدارتی ریفرنس آئین کی خلاف ورزی تھی۔۔

تفصیلی فیصلہ ’سورۃ النساء‘ کی آیات سے شروع کیا گیا ہے جس کے مطابق آزاد، غیر جانبدار عدلیہ کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کی اقدار میں شامل ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ فیصلوں کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائرکرنا آئینی وقانونی حق ہے فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی درخواستوں کوبدنیتی نہیں کہا جا سکتا ہے، تاہم صدر نے آئین وقانون سے تجاوز کیا، شہزاداکبر کے ایسٹ ریکوری یونٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، فیصلے میں ججز نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف جمع کرایا جانے والا تمام مواد غیرقانونی قرار دیا۔