ڈالر کی قدر گھٹنے سے برآمدکنندگان کو مشکل کا سامنا ہے،مزمل چیپل

81

کراچی(اسٹاف رپورٹر)روپے کے مقابلے میںامریکی ڈالرز کی قدر میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں کمی نے بر آمد کنندگان کو مشکل میں ڈال دیا ہے ،تاہم در آمد کنندگان روپے کی قدر میں اضافے سے خوش دکھائی دیتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 4روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امریکی ڈالر 166.60 روپے سے گھٹ کر 162.50روپے کی سطح پر آگیا ہے ،تاہم امریکی ڈالر کی قدر میںکمی نے پاکستان بر آمد کنندگان کو مشکلات میں ڈال دیا ہے ،اس حوالے سے چاول کے بر آمد کنندہ اور سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین مزمل چیپل کا کہنا ہے کہ پاکستانی برآمدکنندگان نے برآمدی معاہدے 167 روپے فی ڈالر پر کئے تھے جبکہ غیر متوازن ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے اب ڈالر کی قدر 166.60 روپے سے کم ہوکر 162.50 روپے پر آگئی ہے اوراس صورتحال میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لئے برآمدی معاہدے پورے کرنا مشکل ہو گیا، انہوں نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ نہ صرف برآمدکنندگان بلکہ ملکی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس وقت ملک کو زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے جو کہ برآمدات سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔مزمل چیپل نے کہا کہ کوروونا کے باعث ملکی برآمدات پہلے ہی دباو کا شکار تھیں اور ابھی برآمدات میں بہتری آنا شروع ہوئی ہی تھی کہ ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ شروع ہو گیا ہے، کورونا کے باعث پہلے ہی برآمدی شعبہ مشکلات کا شکار تھا اور اس وقت برآمدکنندگان خسارہ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔مزمل چیپل نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک ایکسچینج ریٹ کو مستحکم رکھنے کے لئے اقدامات کرے۔