سیاسی بحران اور امن کا مسئلہ

194

ملک کی سیاست میں بحران، عدم استحکام اور بھونچال کی کیفیت ہے۔ وہیں کہیں نہ کہیں قرار و امن تہہ و بالا کردیا جاتا ہے۔ سندھ، خیبر پشتون خوا گاہے بلوچستان میں سنگین و روح فرسا واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں (15اکتوبر) بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 15افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی روز شمالی وزیرستان میں رزمک کے مقام پر شرپسندوں کی جانب سے حملے میں کیپٹن عمر فاروق، نائب صوبیدار ریاض احمد، نائب صوبیدار شکیل آزاد اور لانس نائیک عصمت اللہ جان سے گئے۔ ریاست عسکریت پسندوں کی دہشت گردی کا برسوں سے سامنے کیے ہوئے ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضہ اور افغانستان پر حملے میں امریکا اور ناٹو کا اتحادی بننے کے بعد مسلح تنظیمیں منظر عام پر آئیں۔ ساتھ قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے اثرات پھیلتے گئے۔ یہاں تک کہ سوات اپنے قبضہ میں لے لیا۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے لیے افغانستان پناہ گاہ و تربیت گاہ ٹھیرا۔ افغانستان میں بھارت کو نفوذ و رسوخ حاصل ہوا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا حصہ بن کر بھی افغانستان سے بے دخل کردیا گیا۔ یقینا مشرف رجیم افغانوں کے قتل عام میں شریک اور برادر کشی کی مرتکب ہوئی۔ چناں چہ پاکستان کو مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اگر افغانستان میں امن نہیں تو پاکستان بھی پرسکون نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے مسلح گروہوں نے آپریشن کے بعد افغانستان کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنایا۔ جن کو بھارت کی انٹیلی جنس اور افغان این ڈی ایس کی پشت پناہی حاصل ہے۔
اگست2020کے وسط میں افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے درمیان انضمام ہوا۔ آخر الذکر گروہوں کے کمانڈروں عمر خالد خراسانی اور عمر خراسانی اور ان کے دوسرے نمائندوں نے تحرک طالبان پاکستان کے سربراہ ابو عاصم منصور کے ہاتھوں بیعت کرلیا۔ پاکستان مخالف عزم کا اظہار کیا گیا۔ متوازی طور پر دولت اسلامیہ پاکستان کے نام سے افغانستان میں موجود گروہ نے بھی پاکستان مخالف عزائم پر مبنی اعلامیہ جاری کیا۔ پچھلے مہینوں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) اور سندھو دیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) نے مشترکہ محاذ کے قیام کا اعلان کیا۔ براس بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) پر مشتمل ہے۔ اور ماڑہ حملے کی ذمے داری اس تنظیم نے قبول کرلی۔ درحقیقت بلوچ عسکریت پسندوں پر کلی قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ نہ ہی سیاسی میدان میں ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کیا جاسکا ہے۔ سیاسی نقد و جرح ضرور ہو، لیکن کسی قومی سطح کے رہنمائوں پر بھارت نوازی یا مودی کی دوستی کا بہتان ناپسندیدہ عمل ہے۔ خصوصاً پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی حالیہ تحریک کے تناظر میں حکومتی لوگوں کا بیانیہ صائب نہیں۔ تخریب و دہشت گردی کے واقعات کا پاکستان کو برسوں سے سامنا ہے۔ جس میں یقینا ملک بھاری نقصان اُٹھا چکا ہے۔ عوام اور فورسز کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ لہٰذ اگر کسی منصب دار پر تنقید ہوتی ہے تو اس کا ہرگز مطلب ملک دشمن عناصر کی مدد کرنا نہیں ہو سکتا۔ البتہ حکومت مخالف اتحاد میں شامل سرکردہ رہنما اپنے ارشادات میں محتاط رہیں کہ ریاست کے مفادات کا سوال نہ اُبھرے۔
مشترکہ موضوع ہو تو پی ڈی ایم متنازع ہوگی نہ اتحاد وقتی ثابت ہو گا۔ چوں کہ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس لیے یہ اتحاد کالعدم گروہوں سے متعلق خواہ وہ بلوچستان کے ہوں سندھ کے یا سابقہ فاٹا کے ان کے بارے میں واضح موقف پیش کریں۔ الغرض اورماڑہ کا واقعہ غیر معمولی ہے جس میں تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی سرکاری کمپنی او جی ڈی سی ایل کے کانوائے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کانوائے گوادر سے او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کو ایف سی اور کمپنی کے اپنے نجی سیکورٹی گارڈز کی حفاظت میں کراچی لے جارہا تھا۔ جسے گوادر کے علاقے اورماڑہ سے پچاس کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر ’’سربٹ‘‘ کے مقام پر عسکریت پسندوں نے گھیر لیا، خود کار اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کی، راکٹ کے گولے بھی داغے۔ او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کی گاڑی تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ مگر ان کی حفاظت پر مامور اہلکار گولیوں کا نشانہ بنے۔ ایک گاڑی کی فیول ٹینک پھٹنے سے آگ لگ گئی، جس میں سوار اہلکار جھلس گئے۔ ایف سی کے حوالدار سمیت سات اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں او جی ڈی سی ایل کے نجی محافظ بھی جاں بحق ہوگئے۔ حملے کے بعد قریبی علاقوں اور پہاڑوں میں آپریشن غالباً تین دن تک جاری رہا۔ تاہم آپریشن کس قدر نتیجہ خیز تھا کی تفصیلات اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔ حملہ آور مشکل پہاڑی سلسلوں میں کئی کلومیٹر پیدل سفر کرکے ہدف کے لیے آتے ہیں اس بنا ان کا تعاقب مشکل ہوتا ہے۔ اسی مقام پر اپریل 2019ء میں بھی عسکریت پسندوں کے اسی اتحاد ’’براس‘‘ نے رات کے اندھیرے میں مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافر بسوں کو روکا تھا۔ شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے 14غیر بلوچستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ ان میں 11پاک بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے اہلکار تھے۔ پاکستان نے اس واقعہ پر باقاعدہ ہمسایہ ملک ایران کی حکومت سے احتجاج کیا تھا، کہ تیس سے چالیس کی تعداد میں یہ حملہ آور ایران کی حدود سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور حملہ کرکے واپس وہیں چلے گئے۔ یہ بھی کہ ان تنظیموں کے کارندوں نے پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی حدود میں پناہ لے رکھی ہے۔ یقینا اس نوع کے واقعات آئندہ بھی قوی اندیشہ ہے۔ لہٰذا بلوچستان کے تناضر میں کسی قسم کے اغراض و مقاصد سے ہٹ کر بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔