امارات کا اسرائیل کے جرائم میں تعاون کا فیصلہ ،عالمی تنظیموں کی مذمت

160

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی حکومت اسرائیل نوازی میں تمام حدود پامال کرکے صہیونی حکومت کے جرائم میں حصے دار بن گئی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ابوظبی کی طرف سے فلسطینی شہروں میں اسرائیلی فوج کے حراستی مراکز اور چیک پوسٹیں قائم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبے پر اماراتی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جنیوا میں قائم انسانی حقوق گروہ ’یورو مڈل ایسٹ ‘نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امارات نے مشترکہ طورپر سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا ہے، جس سے مقبوضہ شہروں میں صہیونی چوکیوں اور حراستی مراکز کی تجدید میں معاونت ملے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابوظبی کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کے لیے استعمال ہونے والے مراکز کی حمایت سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور آبادکاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔ صہیونی حکومت کو فراہم کیا جانے والا سرمایہ معصوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امارات نے امریکا کے تعاون سے مشترقہ ترقیاتی فنڈ کے قیام پر اتفاق کیا، جس کا دفتر مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کیا جائے گا۔ امریکا کے مالیاتی تعاون فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائرڈائریکٹرایڈم بونر نے بتایا کہ اس فنڈ میں 3ارب ڈالر کی رقم رکھی جائے گی جو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا، مراکش اور دیگر خطوں میں استعمال کی جائے گی۔ تاہم انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ فنڈنگ صرف فلسطینیوں کو دبانے کے لیے استعمال ہوگی۔ غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی 700 چوکیاں قائم ہیں۔ رواں سال ستمبر کے بعد اسرائیل نے تیزی کے ساتھ مزید چیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور مزید 300 حراستی مراکز کا اضافہ کیا گیا۔