‘حکمرانوں نے سرکاری پیسے کو ذاتی سمجھ کر بانٹا’

157

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ ، حکمرانوں نے سرکاری پیسے کو ذاتی سمجھ کر بانٹا،  پیسے الیکشن اسٹنٹ کی غرض سے بانٹے گئے۔

تفصیلات کے مطابق بینظیر اسٹاک ایمپلائز اسکیم اور  ملازمین کو شیئرز دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔عدالت نے 2013 سے 2019 تک کے فنڈز جاری کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومتی پیسہ سرکار کا ہوتا ہے، حکمرانوں کا ذاتی نہیں، 15 سال کی تنخواہیں اور مراعات بھی دی گئیں، حکومتی پیسہ پھینکنے کے لیے نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے مالی حالات اسی وجہ سے خراب ہیں، حکمرانوں نے سرکاری پیسے کو ذاتی سمجھ کر بانٹا،  پیسے الیکشن اسٹنٹ کی غرض سے بانٹے گئے۔