بدین: چیئر پرسن لیڈی ہیلتھ ورکرز کی زمین پر قبضہ

77

 

بدین (نمائندگان جسارت) لیڈی ہیلتھ ورکرز سندھ کی چیئرپرسن بشریٰ آرائیں کی زمین پر قبضہ اور قتل کی دھمکیاں قابل مذمت اور افسوسناک عمل ہے، چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ سندھ نوٹس لیں۔ مرکزی تنظیم آرائیاں جبری قبضے اور قتل کی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتی ہے، بشریٰ آرائیں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، انصاف کے لیے ملک بھر میں احتجاج اور ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔ مرکزی تنظیم آرائیاں پاکستان کے مرکزی صدر چودھری محمد جمیل آرائیں، جوائنٹ سیکرٹری انجینئر جام مدد علی آرائیں، چودھری ظفر اللہ آرائیں ایڈووکیٹ، انجینئر شاہد محمود آرائیں، امتیاز علی آرائیں، محمد علیم آرائیں ایڈووکیٹ نے ٹھل جیکب آباد کی رہائشی سندھ کی بہادر بیٹی چیئرپرسن آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز بشریٰ آرائیں کی زرعی اراضی پر علاقے کے بااثر جاگیردار اور لینڈ مافیا کی جانب سے جبری قبضے، بشریٰ آرائیں اور ان کے اہلخانہ کو قتل کرنے کی دھمکیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور انصاف کے لیے جدوجہد اور لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے منعقد اجلاس کے موقع پر رہنماؤں نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشریٰ آرائیں کی زرعی اراضی پر جبری قبضہ غنڈہ گردی اور لاقانونیت کی بد ترین مثال ہے، متنازعہ اراضی کا عدالتی فیصلہ بشریٰ آرائیں کے حق میں آنے کے باوجود بااثر قبضہ اور لینڈ مافیا کی جانب سے جبری قبضہ افسوسناک ہے۔ مرکزی تنظیم آرائیاں بشریٰ آرائیں کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ہم چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی جیکب آباد، ڈی جی رینجرز سندھ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بشریٰ آرائیں کی اراضی سے قبضہ ختم کروانے اور بشریٰ آرائیں سمیت ان کے اہلخانہ کو جانی تحفظ دلوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ شرکاء نے کہا کہ بشریٰ آرائیں کی زمین پر قبضہ، ان کو قتل کی دھمکیوں کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کے علاوہ ہر محاذ پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔