فرانسیسی مسلمانوں نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹادیا

304

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس میں اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیم ’’فرانس میں اسلاموفوبیا کے خلاف اشتراک‘‘ (سی سی آئی ایف) نے صدر عمانویل ماکروں کی حکومت کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں درخواست دائر کردی۔ ملک میں تفریق اور مسلمانوں پر حملوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی اس تنظیم نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ فرانس میں مسلمان برادریاں جس طرح کے حالات کی سامنا کررہی ہیں، ان میں سی سی آئی اے بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کرتی ہے۔ تنظیم صدر ماکروں کے اعلان کردہ نام نہاد امتیازی منصوبے کا بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتی ہے، جس کی آڑ میں ماکروں انتظامیہ سی سی آئی ایف جیسی انسانی حقوق تنظیموں اور مسلمانوں کے معاشرتی ڈھانچے کو تحلیل کرنا یا انہیں ڈرانا چاہتی ہے۔ خیال رہے کہ ماکروں انتظامیہ نے ایک مسودہ قانون تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اوران کی انجمنوں پر مزید دباؤ ڈالنے، مساجد کی مالی امداد کی سخت نگرانی کرنے اور بیرون ملک سے دینی خدمات انجام دینے والوں کی آمد روکنے جیسی کوششیں شامل ہیں۔ دوسری جانب مصر کی نامور شخصیت شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے فرانس میں توہین رسالت اور اس کے نتیجے میں گستاخ کی ہلاکت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہب کی تضحیک پر مبنی اقدامات نفرت کے پروان چڑھنے کا باعث بنتے ہیں۔شیخ احمد الطیب نے کہا کہ مختلف مذاہت کی مقدسات کو آزادی اظہار کی آڑ میں نشانہ بنانا دوہرے معیار کا مظہر ہے۔