ماہ ربیع الاول تحفظ ناموس رسالت ؐشان صحابہؓ واہل بیتؓ کے طور پر منائیں گے

33

لاہور (نمائندہ جسارت) ماہ ربیع الاول کو تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و شان صحابہ و شان اہل بیت کے طور پر منائیں گئے۔ مرکزی سالانہ میلاد کانفرنس ربیع الاول 31 اکتوبر بعد نماز عشاء مدینہ چوک (ریگل چوک) میں ہوگئی۔جشن صبح بہاراں دورود سلام کی صداؤں میں عقیدت احترام سے منائیں گے،دہشتگرداسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں ان کا صفایا قلم اور شعور سے کریں گے،پاک فوج پر حملہ کرنے والے ملک دشمن ہیں انہی کی زبان میں نمٹنا ہوگا،آئین وقانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں انصاف کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، سیاسی جماعتوں کا احترام کرتے ہیں مگر پاک فوج کا نشانہ بنانا بیرونی ایجنڈا لگتا ہے، تاجدار ختم نبوت شمع رسالت کے پروانے ولادت مصطفی ﷺشایان شان طریقے سے منائیں گے،عاشقان رسول ﷺقیامت تک ناموس رسالت کا تحفظ اور جشن ولادت مناتے رہیں گے،سرکار دو عالم ﷺ کا جشن ولادت منانا عین اسلام ہے سبز پرچموں کی بہار امن کا پیغام اور جگمگاتی روشنیاں خوشحالی کا عندیہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے رہنما محمد وسیم نقشبندی اور مفتی شہبازعلی سیال نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سنی تحریک کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک میں روادری،محبت اور احترام انسانیت کے فلسفے کو پروان چڑھانا ہے،بارود کی بدبو کو دورود وسلام کی خوشبو سے ختم کرنا ہے،عاشقان رسول ملک کی سلامتی و بقا کیلیے کسی بھی قسم قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے،حضور اکرم ﷺ کے غلام جشن ولادت رسول کے سلسلے میں گلی،محلوں،شاہراہوں کو سبز پرچم اور دوردو سلام سے منور کردیں،میلاد مصطفی امن عام کرنے جہالت،اقربا پروری کا خاتمہ مظلوموں کو حقوق فراہم کرنے کادرس دیتا ہے، میلاد منانا اللہ عزوجل کی وحدانیت کی دلیل اور عشق رسول ﷺ کی علامت ہے،ختم نبوت ﷺ کے شہدا کے لہو کو رائیگا ں نہیں جانے دیں گے،ختم نبوت پرجان قربان کرنیوالے شہید کارکنوں اور عاشقان رسول کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا،نبی کریم ﷺ کی ولادت کے سبب ظلم واندھیروں کے بدل چھٹ گئے سسکتی ہوئی انسانیت کو امن وسلامتی مل گئی،دور جہالت میں بچی کو پیدا ہوتے ہی دفن کرنے کا سلسلہ ختم اور عورت کو بلند وبالا مقام ملا۔اس موقع پرعلامہ فیاض حسین چشتی،علامہ ضیا المرتضی قادری،علامہ غلام رسول رضوی،حاجی اشرف الہی،علی رضا قادری،حافظ ندیم نقشبندی،حکیم عرفان تبسم،حافظ ابرار احمد ڈوگر،زبیر اکرم،پیر اصغر علی سیفی،میاں اویس قادری،سید حسنین رضا اورعدنان حسینی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔