سوڈان دہشت گردی کی امریکی فہرست سے خارج

152
سوڈان: دہشت گرد ممالک کی امریکی فہرست سے نکالے جانے پر شہری وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی تصویر اٹھائے جشن منا رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے مرکزی بینک نے خانہ جنگی میں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے لواحقین کو ہرجانہ ادا کردیا،جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوڈان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کردیا۔ سوڈانی بینک کے گورنر محمد فتح زین العابدین نے اپنے بیان میں بتایا کہ سابق صدر عمر البشیر کے دور حکومت میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کے لواحقین اور زخمیوں کو ہرجانے کے طور پر ساڑھے 33کروڑ ڈالر ادا کردیے گئے ہیں۔ اس سے قبل پیر کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر خرطوم حکومت دہشت گردی کے شکار امریکیوں کوساڑھے 33کروڑ ڈالر ادا کرے، تو اسے دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس ضمن میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا،جس کے کے تحت خرطوم حکومت نے خطیر رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ سوڈان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض کے حصول سمیت کئی طرح کے اقتصادی دروازے کھل سکتے ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں اور سوڈان سے متعلق ان کا حالیہ فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امریکا سے تصفیے کے بعد سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور اس حوالے سے تفصیلات طے کی جارہی ہیں۔ اگر اسرائیل کا سوڈان کے ساتھ امن معاہدہ طے پاگیا تو ٹرمپ اسے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے۔ اسی بنا پر وہ جلد از جلد ایک اور ملک کو صہیونی حکومت کے قریب لانے کے لیے بہت بے چین ہیں۔ واضح رہے کہ 1998ء میں تنزانیا اور کینیا میں القاعدہ کے مبینہ بم حملوں میں 224افراد ہلاک اور 400زخمی ہوئے تھے۔ امریکی عدالت نے حملہ آوروں کو فنڈنگ کا الزام سوڈان پر عائد کرتے ہوئے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔