گوجرانوالہ کا جلسہ

192

16اکتوبر بروز جمعہ گجرانوالا میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہو ہی گیا پی ڈی ایم کے لیڈران اس جلسہ کو گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کہہ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس گرائونڈ میں تیس ہزار افراد کی گنجائش ہے اتحاد کے رہنمائوں نے اس میں بڑی پرجوش تقاریر کیں اور حکومت وقت بالخصوص عمران خان کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ اس جلسے میں پی ڈی ایم کے لیڈروں نے آپس میں ایک مقابلہ بھی کیا کہ کون سب سے بڑا جلوس لے کر جلسہ گاہ میں آتا ہے گوجرانوالہ تو ویسے ن لیگ کا گڑھ ہے مریم نواز لاہور سے کتنا ہی بڑا جلوس لے کر آئیں جلسہ گاہ تو پہلے ہی ن لیگ کے کارکنوں سے بھر چکی تھی، اس لیے حاضری کے اعتبار سے ن لیگ کا پہلا نمبر ہے اب مقابلہ بلاول زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان تھا بلاول کو لالہ موسیٰ سے جلوس لے کر آنا تھا، لالہ موسیٰ میں پی پی پی کے جنرل سیکرٹری کائرہ صاحب رہتے ہیں اور اس علاقے میں ان کے اثرات بھی ہیں اس لیے بلاول لالہ موسیٰ سے اپنا جلوس لے کر گوجرانوالہ پہنچے ان رہنمائوں میں ایک مقابلہ یہ بھی تھا کہ کون تاخیر سے جلسہ گاہ میں پہنچتا ہے۔ دیر سے پہنچنے کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ جلوس میں شرکاء کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لیے سفر طے کرنے میں دیر لگ رہی ہے۔ جلسہ گاہ میں مریم نواز اور بلاول زرداری پہنچ چکے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمن لاہور سے روانہ بھی نہیں ہوئے تھے وہ جلسہ گاہ میں سب سے آخر میں پہنچے۔ ن لگ کے کارکنان کی تعداد سب سے زیادہ تھی اس کے بعد جے یو آئی ف کے کارکنوں کی تعداد تھی جبکہ پی پی پی کی حاضری سب سے کم تھی۔
معروف صحافی ہارون رشید نے ایک پروگرام میں بتایا کہ گرائونڈ کا چالیس فی صد حصہ تو کار پارکنگ کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا اور میرے خیال سے دس فی صد حصے میں اسٹیج اور اس کی سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے ہوں گے، اب آدھے گرائونڈ کو بھرنا کوئی مشکل کام تو نہیں تھا۔ پی ڈی ایم کے رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ جتنے لوگ جلسہ گاہ کے اندر تھے اتنے ہی لوگ جلسہ گاہ کے باہر تھے، یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہو سکتی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی چھوٹے شہر کو بڑی تحریک کا نکتہ آغاز بنایا جا سکتا ہے۔ کسی چھوٹے شہر میں آپ کتنا ہی بڑا جلسہ کرلیں اس کے اثرات محدود ہی رہتے ہیں۔ ماضی میں حکومتوں کے خلاف جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان کا آغاز زیادہ تر کراچی سے ہوتا تھا اس لیے کہ یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے۔ ایک زمانے میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ کراچی سے جو تحریک اٹھتی ہے وہ بہت جلد پورے ملک میں پھیل جاتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات تھیں ایک تو یہ کہ کراچی دینی جماعتوں کا شہر ہے اور ان جماعتوں کی پورے ملک میں تنظیم بھی قائم ہے یہ جماعتیں اپنے تنظیمی نیٹ ورک کے ذریعے پورے ملک میں تحریک کو پھیلا دیتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بین الاقوامی شہر ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ بڑا شہر ہونے کی وجہ سے میڈیا کی کوریج آسان ہو جاتی ہے۔ بیرون ملک سے جو صحافی آتے ان کے لیے بڑے شہروں میں ٹھیرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، گوجرانوالہ کے جلسے کی کوریج کے لیے کچھ صحافی جو باہر سے آئے تھے انہیں گوجرانوالہ میں ٹھیرنے کے لیے مشکل پیش آرہی تھی تو انہوں نے معروف صحافی حامد میر سے رابطہ کیا جنہوں نے ان کے ٹھیرنے کے مسئلے کو حل کیا۔
اس نکتے پر بات ہو جائے کہ گوجرانوالہ کا جلسہ اپنے مقاصد کے اعتبار سے کامیاب رہا یا بس یہ ایک اپوزیشن کا عارضی شو تھا، میرے خیال سے تو ایک عارضی شو تھا اس جلسے کی کامیابی میں اپوزیشن جماعتوں کی محنت کم اور حکومتی ایوانوں کے ترجمانوں کی حماقتیں زیادہ تھیں۔ شبلی فراز صاحب کو یہ چیلنج دینے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر اپوزیشن نے گوجرانوالہ جناح گرائونڈ بھر دیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے اور بھی سرکاری ترجمانوں کے الٹے سیدھے بیانات نے اپوزیشن کے کام کو آسان کردیا پھر جلسے میں جو زبان اور لہجہ استعمال کیا گیا بعد میں اس کا جواب دینے کی بھی کوئی ضرورت نہ تھی، جب 2014 میں عمران خان نے 126 دنوں کا طویل دھرنا دیا تھا وہ روزآنہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بات کرتے تھے اور ان سے استعفے کا مطالبہ کرتے تھے، لیکن ایک دن بھی نواز شریف نے عمران خان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہاں ن لیگ کے دوسرے لیڈران کی تقاریر کا جواب دیتے تھے۔ اسحق ڈار نے کئی بار یہ پیشکش کی آئیے ہم مل کر الیکشن کے قواعد و ضوابط پر مذاکرات کر لیتے ہیں اس وقت عمران خان کا یہی الزام تھا کہ 2013کے انتخابت میں دھاندلی کی گئی ہے یہ آر او کے الیکشن تھے اور پی ٹی آئی کی جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب نواز شریف نے 2014 کے طویل دھرنے میں عمران خان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا حالانکہ وہ بھی ایک بہت بڑا پاور شو تھا تو کیا اب مختلف شہروں میں جلسے کرکے کیا یہ دوبارہ انتخاب کی بات عمران خان سے منوالیںگے۔ مولانا فضل الرحمن اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنما کن بنیادوں پر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت دسمبر کا مہینہ نہیں دیکھ پائے گی۔ 18اکتوبر کو کراچی میں جو جلسہ ہوا ہے وہ تین کروڑ شہر کی آبادی کے لحاظ سے کیا کامیاب جلسہ تھا اس پر بعد میں بات ہوگی۔