پہلے صادق وامین کا مقدمہ لڑا جائے

221

اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا چلا جارہا ہے جس کی ذمے دار وفاقی حکومت ہے جو عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنے کے بجائے مزید مہنگائی کی جانب دھکیل رہی ہے جس کا سیاسی فائدہ نااہل اپوزیشن ٹولے کو پہنچ رہا ہے، اپوزیشن نے ایک نئی تحریک پی ڈی ایم کا آغاز کیا ہے جس کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کو دی گئی ہے۔چند ماہ پہلے مولانا نے حکومت کے خلاف تحریک چلائی، اس تحریک نے مولانا کی سیاست کو ایک نیا رُخ دیا۔ آج مولانا اُن جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہیں جن پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ ہماری نظر میں مولانا صاحب کا انتخاب سیاسی نہیں اسلامی جماعتوں کا اتحاد ہونا چاہیے تھا جو موجودہ حکومت کے ریاست مدینہ کے دعوے کو حقیقت بنانے، سودی نظام کے خاتمے، بے حیائی زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور یہودی ایجنڈے کے خلاف اور عوام کو در پیش مسائل پر ایک مضبوط اتحاد ثابت ہوسکتا تھا۔
دوسری جانب اس ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والی شخصیت پر غداری کے الزامات لگانا شاید مناسب نہیں اور اگر الزام لگانے والے کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اس بات کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے سیاسی میدان میں تو سب ہی غدار ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی با شعور شخص انکار نہیں کر سکتا کہ میاں صاحب اور مریم بی بی دونوں شخصیات اس ملک کی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں جو ضمانتوں پر رہا ہوئے ہیں ہماری نظر میں جلسوں پریس کانفرنس میں عوام کا مقدمہ لڑنے والی ان دونوں شخصیات کو سب سے پہلے اپنا مقدمہ لڑنا چاہیے اور عدالتوں میں ثبوت پیش کریں کہ آپ پر لگائے گئے تمام تر الزامات سب بے بنیاد ہیں آپ کو موجودہ وزیر اعظم سے صادق وامین کے سر ٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں البتہ ملک کی عدالتوں سے صادق و امین ہونے کے سر ٹیفکیٹ کی آپ کو اشد ضرورت ہے۔
یہاں ہم موجودہ حکومت خاص کر عدالت اور اداروں کی توجہ اس جانب دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ ملک کی عدالتوں کے فیصلے کی دھجیاں اُڑانے کے مترادف نہیں کہ سزا یافتہ قیدی ضمانتوں پر رہائی حاصل کر کے ملکی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ عدالت ان کو سیاست سے نااہل قرار دے چکی ہے۔ ایک عام سزا یافتہ قیدی تمام تر بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے اس کو اس کے بیوی بچوں سے ملاقات کے لیے بھی درخواستیں کرنی پڑتی ہیں نہ عدالتی نظام اس کو چند روز کی ضمانت پر رہائی دیتا ہے نہ اس کو علاج کے لیے بیرون ملک تو دور اندرون شہر بھی منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر اشرافیہ کو جرم ثابت ہونے کے باوجود بھی بری کر دیا جاتا ہے اور اگر سزا یافتہ قیدی سیاستدان ہے یا کوئی طاقتور شخص ہے تو اس کو ضمانت دی جاتی ہے اور پھر عدالتوں ہی سے ہر بار ضمانت میں توسیع کر دی جاتی ہے۔
غداری کا الزام میاں صاحب پر لگائیں یا بانی متحدہ پر یہ کل بھی اس ملک کے لیڈر تھے اور مستقبل میں بھی یہ اس ملک کے لیڈر ہی رہیں گے کیوں کہ جب تک عدل کا نظام کمزور رہے گا ان کی طاقت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا، ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کا نیا اتحاد پی ڈی ایم عوام کا مقدمہ سڑکوں پر لڑنے سے پہلے اپنے اوپر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کا مقدمہ لڑے تاکہ عوام آپ کے اور آپ عوام کے ساتھ عزت وقار کے ساتھ کھڑے ہوسکیں یقینا میاں نواز شریف اس ملک کے ایک بڑے لیڈر رہے ہیں اور وہ آج بھی لاکھوں دلوں میں موجود ہیں تو پھر ڈر خوف کس بات کا میاں صاحب کو فوری طور پر وطن واپس آکر عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے اپنے ملک کی عدالتوں سے اپنے آپ کو باعزت بری کرائیں اور نئے انداز سے سیاست کے میدان میں اُتر کر اپنے مخالفین کا مقابلہ کریں۔