تباہی کے راستے پر سفر

285

وفاقی حکومت اور اس کی اپوزیشن کے درمیان جو کھینچا تانی اور شور شرابا ہو رہا ہے اب وہ غلط راستوں پر چل پڑا ہے۔ کراچی میں اپوزیشن کے جلسے کے موقع پر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے داماد، کیپٹن صفدر نے مزار قائداعظم پر حاضری دیتے وقت ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگا دیے۔ اس کے بعد ایک شور قیامت اٹھا اور کسی بھی طرح کیپٹن صفدر کو یہ نعرہ لگانے کی سزا دینے کا فیصلہ ہوا۔ پھر جو کچھ ہوا وہ بنانا ری پبلک میں بھی نہیں ہوتا ہوگا۔ سندھ پولیس کے سربراہ سے زبردستی حکمنامہ جاری کروایا گیا اور گرفتاری عمل میں آگئی۔ چند گھنٹوں بعد انہیں ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا۔ کیپٹن صفدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے والا خود مفرور ملزم ہے پھر بڑی دیدہ دلیری سے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا۔ ظاہری امر ہے کہ حکومت کا مقصد کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنا نہیں تھا۔ اسے مزار قائد کے تقدس کا بھی مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک پیغام تھا کہ قانون ایک جانب طاقت کے مراکز اپنی مرضی چلائیں گے۔ جب کیپٹن صفدر پر مقدمہ چلے گا تب یہ بھی سامنے آئے گا کہ مزار قائد پر نعرہ لگانا اور ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ کرنا مزار کے تقدس کے زمرے میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ لیکن مزار کے تقدس پر بھڑک اٹھنے والے تمام ادارے اس وقت کہاں چلے جاتے ہیں جب پاکستان میں قرآن کا تقدس پامال کیا جاتا ہے۔ خاتم النبیین حضرت محمدؐ مصطفی کی ذات کو متنازع بنایا جاتا ہے۔ آپؐ کے یار غار یار مزار صدیق اکبر کی شان میں گستاخی کے وقت کسی کو تقدس کے تحفظ کی فکر نہیں ہوتی۔ ویسے آئین کی کون سی دفعہ میں یہ درج ہے کہ مزار قائداعظم کے احاطے میں سیاسی نعرہ نہیں لگانا چاہیے۔ قائداعظم نے تو ووٹ کو عزت دے کر ہی ملک حاصل کیا تھا۔ ایک سیاسی رہنما کے مزار پر سیاسی نعرہ کون سی غلط بات ہے لیکن جس انداز میں تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا اس سے صرف اتنا ہوا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ لوگوں کی ہمدردیوں میں اضافہ ہو گیا۔ مسلم لیگ کا جرم ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نہیں ہے بلکہ اس کی مختلف حکومتوں کے ادوار میں پاکستان کو جو نقصان پہنچایا گیا جو غلط معاشی فیصلے کیے گئے۔ حکومتی مناصب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندانی کاروبار کو ناجائز وسعت دی گئی۔ سود کے حق میں عدالت جانے کا جرم ان تمام جرائم پر بھاری ہے جو کسی بھی حکومت نے کیے ہوں گے۔ لیکن حیرت ہے کیپٹن صفدر پر ایسا مقدمہ قائم کر دیا گیا جو بے معنی ہے۔ ایک شوشا چھوڑ دیا گیا کہ ن لیگ پر پابندی لگا دی جائے گی۔ تو کیا فرق پڑے گا۔ یہی لوگ م لیگ، ش لیگ یا کوئی اور لیگ بنا کر آجائیں گے۔ کسی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کرپٹ لوگوں کو پی ٹی آئی میں آنے سے روک لیا جو نئی کرپٹ لیگ بنانے سے روک لیں گے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ اب اپوزیشن کو رعایت نہیں ملے گی۔ وزیراعظم صاحب بتائیں کہ اب تک وہ اپوزیشن کو رعایت کیوں اور کس کے کہنے پر دیتے رہے ہیں۔ یہ بیان تو ایسا لگ رہا ہے کہ گزشتہ روز کے پی ڈی ایم کے اس اعلان کا جواب ہے جس میں پی ڈی ایم نے حکومت کو مہلت دینے سے انکار کیا تھا۔ گویا پاکستان میں کھیل ہو رہا ہے ہم تمہیں مہلت نہیں دیں گے اور دوسرا کہتا ہے کہ ہم تمہیں مہلت نہیں دیں گے۔ جو قوت بھی معاملات بگاڑ کی جانب لے جا رہی ہے اس کا مقصد بلکہ مقاصد یہی ہوں گے کہ ملک میں افراتفری کی کیفیت برقرار رکھی جائے۔ سارا الزام سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام پر ڈالا جائے۔ یہ خدشہ درست ثابت ہو رہا ہے کہ کوئی قوت بساط لپیٹنے کی تیاری کر رہی ہے لیکن یہ کیسی حکومت اور کیسے مقتدر حلقے ہیں کہ بساط لپیٹے جانے کے عمل کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں یہ مقتدر حلقے خود بساط لپیٹنا چاہ رہے ہیں یا کوئی اور قوت یہ کام کر رہی ہے لیکن جو راستہ اختیار کیا گیا ہے وہ کسی صورت درست نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے چھٹی لے لی ہے۔ یہ چھٹی اپنے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کے ساتھ غیر قانونی معاملات کرنے پر ڈسپلن کے اندر رہتے ہوئے احتجاج ہے۔ اگر پولیس بھی کسی قسم کی غیر قانونی حرکت کر ڈالتی یا اپنا قانونی اختیار استعمال کر لیتی تو کیا صورتحال ہوتی۔ طاقت کا نشہ کسی کو بھی ہو اسے تباہی کے راستے پر لے جاتا ہے۔ پاکستان میں طاقت کے مراکز اس وقت کسی معقول بات کو سننے اور سمجھنے کی کیفیت میں نہیں ہیں بلکہ ہر معقول بات پر بھڑک رہے ہیں جس سے خرابیاں بڑھ رہی ہیں۔ سندھ پولیس کا احتجاج اگر ایک دن بھی جاری رہتا ہے تو صوبے میں امن وامان کی ذمے داری کس پر ہوگی۔ آئی جی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کی چھٹی کی درخواستیں بھی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اب بس کردو بھائی۔