نظام تو اسلام ہی ہے

83

اپوزیشن کے جلسوں اور الزامات کے کھیل کے دوران الزامات کا رُخ تبدیل ہو گیا ہے ۔ اب تک تو مخالفت کرنے والا غدار اور ملک دشمن تھا ۔ مودی کا یار تھا ۔ لیکن اب معاملات تبدیل ہو رہے ہیں ۔ حکومت کو اب اپنی ہی نہیں لوٹ مار کے اس نظام کی بھی فکر ستانے لگی ہے جس کی وجہ سے آج کل پی ٹی آئی حکمرانی کر رہی ہے اور اس سے قبل مسلم لیگ اور پی پی پی کرتے رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے رہنمائوں شاہ محمود قریشی ، شبلی فراز اور دیگر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے کھیل سے نظام جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے ان رہنمائوں کے نزدیک یہ نظام ہی ہے لیکن اگر اس طریقہ کار کو جو ملک میں رائج ہے نظام کہا جارہا ہے تو اسے رُخصت ہو جانا چاہیے ۔ وزراء کی جانب سے یہ خوف دلانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں خوف ہے کہ کوئی قوت ساری بساط لپیٹ دے گی ۔ اس لیے انہوں نے اپوزیشن کو چارہ ڈالا ہے کہ اگر اس کا رویہ ایسا ہی رہا تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ۔ یہ بات وہ لوگ کہہ رہے ہیں جن کے ہاتھ ، جیبیں ، گھر ، بینک اور نہ جانے کہاں کہاں مال بھرا ہوا ہے ، ملکی دولت پر ہاتھ صاف کرنے والا ہر رہنما دوسرے کو چور کہہ رہا ہے ۔ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو نظام جانے کا خوف دلانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ کچھ لے دے کر معاملات کرنے کی جانب پیش رفت کی جائے ۔ لیکن پہلے نظام کی بات کر لی جائے تو بہتر ہو گا ۔ نظام کا مطلب ہوتا ہے کسی بھی ملک میں مملکت کے کام چلانے کا طریقۂ کار ، کون کس حد تک فیصلے کر سکتا ہے ، بالا دست کون سا ادارہ ہو گا ۔ اس کی بھی کیا حدود ہوں گی ۔ نچلی سطح پر شہروںمیں کون فیصلے کرے گا ۔ تنازعات کہاںفیصل ہوں گے۔ کس ادارے کا کیا دائرہ کار ہو گا ۔ اس طریقۂ کار کو نظام کہتے ہیں اور دنیا بھر میں جہاں جہاںپر سکون طریقے سے کاروبار مملکت چل رہا ہے وہاں نظام قائم ہے اور کسی کو یہ فکر نہیں کہ دشمن ملک کابیانیہ پیش یا مسلط کیا جا رہا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بہترین نظام کے نام پر یعنی اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں نظام کا جھگڑا چل رہا ہے ۔ اس لوٹ مار اور عوام پر قبضے کے سلسلے کو نظام کہلوانے اور منوانے پر اصرار کیا جا رہا ہے جس میں چھوٹوں کے لیے قانون اور بڑوں کے لیے رعایتیں ہیں ۔ اس کو نظام کہا جاتا ہے کہ دن دہاڑے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کا سوداایک ڈکٹیٹر کرتا ہے اور اسے کوئی نہیں پوچھتا ۔ یا اس کو نظام کہا جاتا ہے جب12 مئی کو کراچی میں راستے بند کر کے چیف جسٹس کو واپس اسلام آبادجانے پر مجبورکیا گیا اور کراچی میں پچاس افراد قتل کر دیے گئے ۔ شاید اسے نظام کہا جا رہا ہے جس میں عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ ہی عوام کے حقوق غصب کرنے کے قوانین غیر ملکی آقائوں کی خواہش پر منظور کر لیتی ہے ۔ یا پھر وزراء اس کو نظام کہتے ہیں کہ دائیں طرف آٹا چور اوربائیں طرف چینی چور بیٹھا ہو اور درمیان والا عوام سے کہہ رہا ہو کہ گھبرانا نہیں ۔ ایسے نظام کو لات مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی ضرورت ہے لیکن اگر عوام کے ہاتھ میں یہ معاملہ آ گیا اور انہیں متبادل نظام کا شعور نہ دیا گیاتو جو افرا تفری ہو گی اور جوفساد ہو گا اس سے پناہ مانگنے کی ضرورت ہے ۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام کی سیاسی تربیت کی جائے ،سیاسی نظام کیا ہوتا ہے اس کا شعور دیا جائے پھر یہی عوام اس نام نہاد نظام کو لات مار کر بھگا دیں گے ۔ وفاقی وزراء کی بے چینی اس امر پر نہیں ہے کہ زرعی ملک لاکھوں ٹن گندم کیوں درآمد کر رہا ہے ۔ عوام کو دو سو روپے کلو ٹماٹر دیا جا رہا ہے اور پیاز80روپے کلومل رہی ہے ۔50 لاکھ نوکریاں دینے کے بجائے اتنے ہی لوگوں کو بے روز گارکر دیا گیا ہے ۔ گھر بناکر دینے کے بجائے لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے ۔ بلکہ انہیں فکر اس بات کی ہے کہ باریوں کا نظام طویل عرصے کے لیے معطل نہ ہو جائے ۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ شاہ محمود قریشی، شبلی فراز ، اسد عمر اور علی زیدی کو یہ خدشہ کیوں ہوا کہ نظام رُخصت ہو جائے گا اور کون یہ رُخصتی سر انجام دے گا ۔ انہیں ایک دوسرے کو ڈرانے کی ضرورت نہیں ۔ حکومتی سیٹ اپ کو اپ سیٹ کر دینے کو نظام کی رُخصتی نہیں کہتے بلکہ ان لوگوںکے لیے نئے مواقع میسر آ جاتے ہیں ۔ سیٹ اپ تبدیل ہوا تومسلم لیگ والے ق لیگ والے بن گئے ، ق لیگ کو ضرورت پڑی تو پیپلز پارٹی کے دس لوٹے فیصل صالح حیات کی قیاد ت میں اس میں شامل ہو گئے ۔ جب عمران خان کو لانے کی ضرورت پڑی تو پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن ، ق لیگ سب کے لوٹوں کو جمع کر کے بھات متی کا کنبہ تیار کیا گیا، ان لوگوں کے لیے یہ نظام ہے ، اسے نظام کہنا بھی نظام کی توہین ہے ۔ یہ تو اب نئے اورپرانے حکمرانوں کی باریوں کے نظام سے بھی خراب نظام بن گیا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی کھینچا تانی سے قطع نظر وسیع پیمانے پر یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان جس مقصد کے لیے وجودمیں آیا تھا اسے اسی مقصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے ۔ جب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک یہی لوٹ مار کے سیٹ اپ چلتے رہیں گے ۔ لوٹ مار کے سیٹ اپ کو نظام نہیں کہا جاتا بلکہ نظام تو اسلامی نظام ہی ہوتا ہے ۔