گلبدین حکمت یار کی پاکستان آمد، صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کریں گے

212

سربراہ حزب اسلامی افغانستان گلبدین حکمت یار تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق گلبدین حکمت یار وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ پہنچے جہاں حکام کے ساتھ پاک افغان تعلقات،افغانستان میں قیام امن کیلیے بین الافغان مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔

گلبدین حکمت یار کا دورہ پاکستان 19 سے 21 اکتوبر تک ہو گا۔ حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ، صدر عارف علوی، وزیراعظم سےملاقاتیں کریں گے۔

قبل ازیں افغان رہنما گلبدین حکمت یاروفدکےہمراہ پاکستان کیلئےروانہ ہوئے تو کابل ایئرپورٹ پر ان کا کہنا تھا کہ امن کےپیغام کےساتھ پاکستان جارہاہوں۔

گلبدین حکمت یار کی سراج الحق سے ملاقات افغانستان سے غیر ملکی انخلا پر اتفاق

واضح رہے کہ 24 جون 2019 کو سابق افغان وزیر اعظم اور حزب اسلامی افغانستان کے امیر انجینئر گلبدین حکمت یار نے وفد کے ساتھ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے اسلام آباد میں ملاقات کی  تھی۔

ملاقات میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ،نائب امیر لیاقت بلوچ ،نائب امیر و ڈائریکٹر امور خارجہ عبد الغفار عزیز ، پروفیسر محمد ابراہیم ،میاں محمد اسلم ، شبیر احمد خان،رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی و دیگر رہنمابھی موجود تھے ۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کا ایک پیج پر آنا بہت ضروری ہے ۔دشمن ہمیشہ دونوں برادر اسلامی ممالک میں تنازعات پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کی بھارتی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام نے اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے لاکھوں شہدا پیش کیے اور تاریخ انسانی کی بڑی ہجرت کی ۔پاکستان کے عوام نے بھی اپنے افغان بھائیوں کو رہنے کے لیے نہ صرف گھر دیے بلکہ اپنے دلوں میں جگہ دی۔

انہوں نے کہا کہ اب افغانستان کی تمام جماعتوں اور شخصیات کو قیام امن کے لیے مشترکہ کوشش کرنا ہوگی تاکہ افغانستان کی نئی نسل کو پڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع مل سکے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان آج بھی افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے ،ہم افغان عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان نے بھی اس پورے عرصے میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔