ٹنڈوالٰہیار،چوری و ڈکیتیوں کی وارداتوں میں اضافہ ،شہری پریشان

11

ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) جرائم پیشہ افراد کی وارداتوں میں اضافہ، کار میں سوار تین مسلح ملزمان چمبٹر روڈ پر واقعے موبائل مارکیٹ کے چوکیدار کو یر غمال بنا کر دن دہاڑے چودہ دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے سمیت موبائل فون لوٹ کر فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ٹنڈوالہٰیار پولیس کے ایس ایچ او ریاض سومرو نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچ کر تحقیقات شروع کی۔ نئے آنے والے ایس ایچ او ریاض سومرو کو چوروں کی جانب سے کھلا چیلنج دیتے ہوئے ایک ہی دن میں تین وارداتیں کر کے چودہ سے زائد موبائل فون کی دکانوں کے تالے توڑ دیے جبکہ دو کھاد کی دکانوں کے بھی تالے توڑ ے گئے اور جاتے ہوئے مددگار کے سامنے واقعے مشتاق قائم خانی کے شوروم سے پانچ لاکھ روپے اور موٹر سائیکل بھی لے اڑے۔ مذکورہ دکانداروں کے تالے توڑنے کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔ واردات کرنے والے صبح سویرے چمبٹر روڈ پر نئی موبائل مارکیٹ میں جہاں سو سے زائد موبائل فون کی دکانیں ہیں کے چوکیدار کو یر غمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنا کر چند منٹ کے اندر چودہ دکانوں کے تالے توڑ کر ایک لاکھ روپے سے زائد کیش اور موبائل فون، لالا زاہد یوسفانی کی کھاد کی دکان کے تالے توڑ کر دس ہزار روپے لے اڑے، مددگار پولیس کے سامنے مشتاق قائم خانی کے شوروم سے پانچ لاکھ روپے سمیت ایک موٹر سائیکل لے کر فرار ہوگئے جبکہ مسلح افراد چوکیدار کو یرغمال بنا کر گنے کے کھیت میں پھینک کر چلے گئے۔ بعد ازاں موبائل مارکیٹ کے دکانداروں نے ٹنڈوالہٰیار پولیس کیخلاف حیدر آباد روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی ٹنڈوالہٰیار شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، دن دہاڑے دکانوں کے تالے ٹوٹنا شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ دکانداروں نے پولیس کیخلاف سخت نعرے بازی بھی کی اور چوروں کو جلد گرفتار اور آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدر آباد سے مطالبہ کیا کہ جرائم کی وارداتوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔