یاسوکونی مندر ایک بار پھر وجہ تنازع

5

توقع کے عین مطابق جاپان کی نئی حکومت کے حوالے سے ا ب یہ بات بہت وضاحت کے ساتھ سامنے آ چکی ہے کہ یہ شنزو آبے ہی کی پالیسیوں پر کاربند ہے، جو گزشتہ حکومت کا پرتو ہیں۔ امریکا کے انڈو پیسفک ریجن کے حوالے سے 4 ملکی اتحاد کا معاملہ ہو یا چین، شمالی و جنوبی کوریا کے ساتھ سرحدی اور روایتی نوعیت کے امور، یوشی ہیدے سُوگا کی تمام تر پالیسیاں اپنے یپش رو شنزو آبے کی فکر کے طابع اور تسلسل کی عکاسی کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس مفروضے کا ایک اورعملی ثبوت وزیر اعظم سوگا کی جانب سے متنازع ’’یا سو کونی مندر‘‘زو بھیجا جانے والا نذرانہ ہے۔ یہ ان کی جانب سے گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کے تسلسل کا ایک علامتی اظہار ہونے کے ساتھ اس بات کا عندیہ بھی ہے کہ جاپان اپنی روایات کے حوالے سے کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے پر ہرگز آمادہ نہیں ہوگا۔ اقتدار میں آنے کے بعد سوگا کی جانب سے یہ پہلا نذرانہ ہے جویاسو کونی مندر کو بھجوایا گیا ہے ۔ ان کے پیشرو شنزو آبے بھی اپنے دور اقتدار میں اس مندر کواسی طرح نذرانے بھجواتے تھے بلکہ استغفے کے بعد بھی انہوں نے اس مندر کا دورہ کیا تھا۔
یاسو کونی مندر میجی میں تعمیر شدہ ایک عمارت ہے، جس کے متنازع ہونے کی وجہ اسے ان جنگی جرائم میں سزایافتہ 14افراد سے منسوب کیا جانا ہے جنہیں جنگ عظیم دوئم کے بعد بین الاقوامی ٹریبونل نے سزا سنائی تھی۔ چین اور جنوبی کوریا کے موقف کے مطابق ملزمان نے دوران جنگ شدید اور انتہائی نوعیت کے مظالم ڈھائے تھے جبکہ جاپان ان لوگوں کو اپنا قومی ہیرو تسلیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یاسوکونی مندر اب ایک عبادت گاہ کے درجے سے زیادہ ایک علاقائی سیاسی اسٹنٹ بن چکا ہے۔ اس مندر کا دورہ چین اور جنوبی کوریا کے نزدیک ان کے مرحومین کی توہین ہے اور دونوں حکومتی سطح پر اس سلسلے میں انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں ۔ دونوں ممالک اس مندر کو جاپان کی جانب سے ماضی میں کیے جانے والے فوجی مظالم کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ 2013ء میں سابق جاپانی وزیر اعظم نے جب اپنے دور اقتدار میں یاسو کونی مندر کا دورہ کیا تھا تو اس وقت بھی چین اور جنوبی کوریا نے انتہائی شدید رد عمل ظاہر کیا تھا جبکہ امریکا نے بھی اس عمل پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی تھی۔ اس کے باوجود جاپان اپنے ماضی سے جڑی اس علامت اور اس مندر سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔
وزیر اعظم یوشی ہیدے سوگا بحیثیت کابینہ سیکرٹری 2012ء اور اس سے قبل 2011ء میں بھی اس مندر کا دورہ کر چکے ہیں جب کہ اس بات کا قیاس ہے کہ وہ اپنے پیشرو کی روایت کو دہراتے ہوئے بطور وزیر اعظم اس مندر کا دورہ کریں گے۔ سیئول کی جانب سے جاپانی وزیر اعظم کے نذرانے پر شدید رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے اسے جاپان کے جنگی ماضی کی عظمت رفتہ کا اظہاریہ قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے تعلقات ماضی کی خراب یادوں اور 1910ء سے 1945ء کے دوران ہونے والی دوسری جنگ عظیم کی تلخ یادوں کی وجہ سے خوشگوار نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں کوریا جاپان کی کالونی رہ چکا ہے جبکہ ٹوکیو کا کہنا ہے کہ 1965ء میں دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کو حل کیا جا چکا ہے۔ بہر حال اس سلسلے میں خطے کے پائیدار امن کے لیے جاپان چین اور کوریا کو کسی ایک فارمولے پر اتفاق کی راہ ہموار کرنی ہوگی ۔