کی نجکاری منظور نہیں HBFC

38

15اکتوبر بروز جمعرات ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (HBFC) کے ملازمین نے ادارے کی نجکاری کے خلاف کراچی پریس کلب پر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا گیا کہ پرافٹ میں چلنے والے پاکستان کے خود مختار قومی و فلاحی ادارے کی نجکاری کے احکامات واپس لینے کے آرڈر جاری کیے جائیں۔ یہ ہائوسنگ سیکٹر میں حکومتی تحویل میں چلنے والا ملک کا واحد ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد بے گھر غریب و متوسط طبقے کو گھر کی فراہمی میں مدد فراہم کرنا ہے اس ادارے نے 1952ء سے لاکھوں بے گھر افراد کو گھر کی فراہمی میں مدد فراہم کی۔ آج لاکھوں گھرانے اس ادارے کے توسط سے اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ اس طرح کے ہائوسنگ سیکٹر کے ادارے دنیا بھر میں حکومتی تحویل میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان اداروں کو حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا بے گھر افراد کو گھر جیسی بنیادی سہولت کا جو وژن ہے اسی وژن پر ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن بھی عمل کررہی ہے۔ ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کو بلا ضرورت پرائیویٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس ادارے کی نجکاری کا کوئی جواز نہیں بنتا، یہ ادارہ ایک نفع بخش ادارہ ہے جو کسی بھی طرح حکومت وقت پر بوجھ نہیں، اس ادارے سے لاکھوں بے گھر غریب و متوسط طبقے کی گھر کے حصول کی خاطر امیدیں وابستہ ہیں، گھر کی فراہمی میں پاکستان کا اور کوئی ایسا ادارہ نہیں جو
غریب اور متوسط طبقے کے بے گھر افراد کو گھر کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہو۔ اس ادارے کی نجکاری کا نقصان دوران سروس اپنی خدمات انجام دینے والے ملازمین پر بے روزگاری کی صورت میں، ریٹائرڈ ہونے والے پنشنرز کی پنشن پر براہ راست اور ہائوسنگ سیکٹر سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کی روزی پر پڑے گا جو کسی بھی طرح مناسب نہیں۔اس ادارے نے سال 2018ء میں ایک ارب 4 کروڑ سے زائد اور 2019ء میں 2 ارب 76 کروڑ سے زائد منافع حاصل کیا، اس وجہ سے اس کی نجکاری کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ ادارہ ملک کے عوام کو کم شرح سود پر قرض مہیا کررہا ہے جس کا تناسب 12 فیصد سے 4 فیصد تک ہے، اس ادارے کی ملکیت میں گوادر، پشاور، کراچی، اسلام آباد، حیدر آباد اور لاہور میں اربوں روپے کی جائیدادیں موجود ہیں۔