سہ فریقی لیبر اسٹینڈنگ کمیٹی کی خفیہ کارروائی

37

5اگست 2020ء کو حکومت سندھ نے سندھ سہ فریقی لیبر اسٹیڈنگ کمیٹی کے نوٹیفکیشن کا اجرا کیا جس کی پہلی میٹنگ مورخہ 13 اکتوبر کو زیر صدارت چیئرمین کمیٹی سیکرٹری لیبر سندھ منعقد ہوئی۔ واضح رہے کہ اس 30 رکنی کمیٹی میں سہ فریقی بنیاد پر سہ فریق کی جانب سے 10 نمائندگان شامل ہیں۔ صدر اجلاس کی ہدایت پر منسٹری لیبر سندھ سے ملحقہ محکموں کی کارکردگی اور خصوصاً کورونا کے مرض کے پھیلائو کے عرصے میں مزدور طبقہ کو کیا ریلیف فراہم کیا گیا پر لیبر ڈائریکٹریٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر فرخ ہمایوں زیدی نے مزدوروں کی موصولہ شکایات اور اس کے تدارک کے حوالے سے کارکردگی بیان کی جبکہ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ڈائریکٹر ورکس نے فوتگی گرانٹ و جہیز گرانٹ کی مزدوروں کو ادائیگی کے حوالے سے تفصیل بیان کی اور بتایا کہ عنقریب 1800 فلیٹوں کی تعمیر جامشورو کوٹری صنعتی ایریا کے مزدوروں کے لیے شروع کی جارہی ہے۔ سندھ سوشل سیکورٹی (SESSI) کی کارکردگی کو ڈاکٹر سعادت میمن نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ گھوٹکی میں 25 بستروں کا اسپتال زیر تعمیر ہے۔ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں جدید CT اسکین نصب کی گئی ہے جس کے ذریعے امراض قلب کے مریضوں کی انجیو گرافی ممکن ہوسکے گی۔ کورونا کے مریضوں کے لیے کڈنی سینٹر میں تسلی بخش انتظامات کیے گئے۔ لانڈھی اسپتال میں کارڈک یونٹ قائم کیا گیا۔ اس کارکردگی کے بیان کے بعد شرکائے اجلاس کو گفتگو کی دعوت دی۔ کرامت علی نے کہا کہ باوجود وعدوں کے سوشل سیکورٹی اسکیم میں انفارمل مزدور اور روزانہ اجرت مزدور کو شامل کرنے کے لیے یونینورسلائزیشن سوشل سیکورٹی اسکیم پر کوئی خاطر خواہ و تسلی بخش پیش رفت نہ ہوسکی ہے۔ مزید یہ کہ لیبر قوانین کا اطلاق و عملدرآمد کے حوالے سے بھی کوئی مثبت نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ حبیب الدین جنیدی نے بھی لیبر قوانین پر اطلاق و عملدرآمد میں غفلت و لاپرواہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزدور طبقہ جائز قانونی مراعات سے محروم ہے جبکہ متعدد افسران اپنی پوسٹ پر طویل عرصے سے کام کررہے ہیں۔ اگر خراب کارکردگی یا شکایات پر ان کا تبادلہ کیا جائے تو پھر وہ واپس 6 یا 8 ماہ بعد اپنی پوسٹ پر واپس آجاتے ہیں۔ شفیق غوری نے اپنی معروضات بیان کرتے ہوئے کہا کہ روایتی انداز میں ملک میں افسران کی بریفنگ بہت اچھے و خوبصورت انداز میں کارکردگی کو بیان کرنے کے لیے اعداد و شمار کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں جبکہ زمینی حقائق بالکل اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1800 فلیٹوں کی تعمیر و اس جگہ کے حوالے سے صورت حال یہ ہے کہ مختیار کار کوٹری نے سندھ ہائی کورٹ کو بذریعہ خط مطلع کیا ہے کہ مجوزہ فلیٹوں کی زمین سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی ملکیت نہیں ہے۔ اس واضح صورت حال کے باوجود اس تعمیراتی کام کے حوالے سے 36 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ سندھ سوشل سیکورٹی کی کارکردگی کے حوالے سے پیش کردہ کارکردگی کو انہوں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ولیکا اسپتال میں فی الوقت نہ ہی ماہر امراض ہے نہ کوئی نیورو فزیشن و سرجن تعینات ہے تو جدید سہولیات و مشینوں سے کس ماہر ڈاکٹر کے ذریعے علاج فراہم کیا جائے گا۔ جبکہ کورونا کے مریضوں کے لیے بھی کڈنی سینٹر میں کوئی خاطر خواہ سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہے بلکہ وینٹی لیٹر کی خریداری ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلفیئر بورڈ میں کرپٹ افسران ویلفیئر اسکیموں کی نگرانی کررہے ہیں جن پر NAB اور اینٹی کرپشن میں مقدمات قائم ہیں۔ اجیر نمائندہ زاہد سعید نے بھی غیر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اپنا نکتہ نگاہ واضح کیا ۔ جبکہ پیش کردہ کارکردگی کے حوالے سے مختلف آجر و اجیر نمائندگان نے بھی اپنا موقف بیان کیا۔ مذکورہ اجلاس میں کمشنر SESSI اسحاق مہر، ڈائریکٹر جنرل لیبر سندھ نوید احمد اعوان، ڈائریکٹر جنرل نیلاٹ نور الہادی، ڈپٹی سیکرٹری لیبر سندھ نے حکومت سندھ کی جانب سے نمائندگی کی۔ صنعت کار نمائندگان زاہد سعید کے علاوہ سائٹ ایسوسی ایشن، فیڈریشن بی ایریا انڈسٹریل ایسوسی ایشن، سپر ہائی وے ایسوسی ایشن اور FPCCI کے نامزد اراکین نے شرکت کی۔ جبکہ ٹریڈ یونین نمائندگان میں کرامت علی، حبیب الدین جنیدی، شفیق غوری، ناصر منصور، عبدالواحد شورو، زہرہ اکبر اور فرحت پروین شامل تھے۔