مہنگائی کے اضافے پر NLF سندھ کا ردعمل

36

نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ، جنرل سیکرٹری شکیل احمد شیخ ، انفارمیشن سیکرٹری محمد احسن شیخ، حیدرآباد زون کے سیکرٹری اعجاز حسین، اختر غلام علی اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں جہاں دودھ 110 روپے لیٹر ، چینی100روپے کلو، دالیں250سے 300 روپے کلو اوربنیادی ضرورت آٹا 80 روپے کلو ہو چکا ہو تعلیمی اخراجات بے انتہابڑھ چکے وہاں 2سال قبل مقرر کی گئی کم از کم تنخواہیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں سرکاری اور نجی شعبہ کے ملازمین سخت مالی، مشکلات کا شکار ہیں اور نوبت چٹنی روٹی نہیں فاقہ کشی کی تک آچکی ہے۔ تین وقت کے بجائے ایک وقت بھی پیٹ بھر روٹی کھانا ممکن نہیں رہا ہے۔ غریب محنت کش جب ا س طرح کے معاشی حالات کا شکار ہیں کہ ان کے پیٹ میں روٹی بھی پوری نہیں ہے وہ کس طرح سے محنت مزدوری کر کے ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں برآمدات میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب صنعتیں بھر پور پیداوار دیں اور جس کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلے کی پوزیشن میں ہو، زائد مالیت کی پیداوار سے معیشت بحال نہیں ہو سکتی اس کے دو ہی حل ہیں کہ تنخواہوں میں اضافہ کر کے پیداواری اخراجات بڑھادیے جائیں یا اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 60%سے 70%فیصد کمی کر کے غریبوں کی مدد کی جائے کہ وہ موجودہ تنخواہ میں بھی پیٹ بھر کر روٹی کھا سکیں اور اپنی بھر پور توانائیاں استعمال کر کے ملک کی معیشت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ان رہنمائوں نے اپیل کی ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں فوری 60%سے 70%فیصد کمی کی جائے اور اشیائے تعیش کی درآمدات پر پابندی لگائی جائے اور ان پر عائد ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے 120گز تک کے مکانات پر بجلی کے بلوں میں کم از کم 50%فیصد کمی کی جائے ،اور 150گز سے بڑے مکانات پر نہ صرف جائیداد ٹیکس میں اضافہ کیا جائے بلکہ ان سے عام شرح پر بجلی ،گیس اور دیگر یوٹیلیٹیز کے بل پابندی سے وصول کیے جائیں۔ بجلی کی فراہمی کے لیے کارڈ میٹرلگائے جائیں تا کہ ہر صارف اپنے خرچ کردہ بجلی کے مطابق کارڈ خریدے تا کہ بجلی کی چوری رک سکے اور صنعتوں کو کم قیمت پر بجلی مل سکے۔