پی ڈی ایم اور حکومت

225

یادش بخیر کبھی اپوزیشن اتحاد کی سربراہی نوابزادہ نصر اللہ خان کے پاس ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے ہر حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور جب ان کی کوششوں کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہوگئی اور انتخابات کے ذریعے نئی حکومت برسراقتدار آئی تو وہ اس کا حصہ نہیں بنے بلکہ اس کی کڑی نگرانی کرنے لگے اور جہاں اس نے جمہوری اصولوں سے انحراف کیا، شخصی آمریت قائم کرنے کی کوشش کی اور پریس کی آزادی پر حملہ کیا تو نوابزادہ صاحب پھر اس کے مد مقابل آگئے اور اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم کرکے حکومت وقت کو گرانے کی کوشش کرنے لگے۔ کہتے ہیں کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے نہ مستقل دشمن، دوستی اور دشمنی حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ نوابزادہ صاحب بھی اسی سیاسی روایت کے قائل تھے۔ ان کی ساری کمٹمنٹ جمہوریت اور جمہوری نظام کے ساتھ تھی جب بھی کوئی سول حکومت یا فوجی آمریت اس نظام پر حملہ آور ہوتی تھی تو وہ اس کے خلاف اپنی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے تھے اور ڈٹ کر اس کے مدمقابل آجاتے تھے۔ اب خیر سے مولانا فضل الرحمن اپوزیشن اتحاد، پی ڈی ایم کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
فضل الرحمن بے شک مولوی بلکہ مولانا ہیں لیکن ان میں ’’مولوی مدن‘‘ یعنی نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم والی بات نہیں ہے۔ ان کا کسی لحاظ سے بھی نوابزادہ صاحب سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا صاحب ماضی میں ان جماعتوں کے ساتھ شریک اقتدار رہے ہیں جن کے ساتھ مل کر اب وہ ’’جمہوریت‘‘ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ جمہوریت کی جنگ نہیں، اقتدار کی کشمکش ہے۔ اس کشمکش میں جو جیتے گا اقتدار کا ہُما اس کے سر پہ بیٹھ جائے گا اور مولانا صاحب اس سے اپنا حصہ وصول کرلیں گے۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ان پر بڑا دلچسپ جملہ کسا ہے کہ مولانا صاحب اصول کی نہیں وصول کی سیاست کرتے ہیں۔ ہمارے دوست کہتے ہیں کہ وصول کی سیاست کون نہیں کررہا؟ شریف برادران ہوں یا زرداری فیملی سب اس کوشش میں ہیں کہ چمڑی جائے دمڑی نہ جائے۔ یہاں تو معاملہ دمڑی کا نہیں، اربوں کھربوں کا ہے جسے بچانے کے لیے وہ ہر تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں مولانا فضل الرحمن ایسا سرپرست بھی مل گیا ہے۔ تاہم واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ حضرت مولانا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی وکٹ پر کھیلنے کے بجائے اپنی وکٹ پر کھیلیں گے اور پی ڈی ایم کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے کیوں کہ وہ خود کو صاحب الرائے بھی سمجھتے ہیں اور صائب الرائے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف نے اے پی سی میں جو مزاحمتی تقریر کی تھی اسے حضرت مولانا نے کمال دانش مندی سے مفاہمتی بیانیے میں بدل دیا ہے اور مقتدرہ کو پیغام دیا ہے کہ ان کا قومی اداروں سے کوئی تصادم نہیں ہے، وہ تو صرف ایک نااہل حکومت کو پرامن جمہوری جدوجہد کے ذریعے تبدیلی کرنا چاہتے ہیں اس عمل میں قومی اداروں کو مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔ ’’قومی اداروں‘‘ سے ان کی مراد فوج اور عدلیہ ہے۔ فوج تو بار بار اس بات کی وضاحت کررہی ہے کہ اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، وہ تو آئین کے تحت حکومتِ وقت کی مدد کرنے کی پابند ہے۔ رہی عدلیہ تو اس کا سیاست سے کیا واسطہ! وہ تو قانون کے مطابق انصاف کرنے میں مصروف ہے۔ چاہے اس کی زد میں سیاستدانوں پر پڑتی ہو یا غیر سیاستدانوں پر، جہاں تک میاں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے اور ان کی گرفتاری کے لیے اشتہار لگانے کا معاملہ ہے تو یہ ایک قانونی عمل ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ الگ بات کہ اس سے عمران حکومت کو سیاسی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے کَس بَل کا پتا تو اُس وقت چلے گا جب عوام اس کے جلسوں میں آئیں گے اور حکومت نے اس کے لیے فضا خود تیار کردی ہے۔ اس نے ملک میں اتنی مہنگائی کردی ہے کہ لوگوں کو دم گھٹتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ جرائم اور خصوصاً جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، چھوٹے بچے جنسی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور حکومت ان جرائم کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں رکھتی۔ اس کی تمام تر توجہ پریس کی آزادی سلب کرنے اور سیاسی حریفوں کی مُشکیں کسنے پر مرکوز ہے۔ پی ڈی ایم اگر عوامی جلسے کرنے میں کامیاب رہی اور ان جلسوں میں اس کی قیادت نے قومی اداروں کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے عوام کے مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تو بلاشبہ پی ڈی ایم عمران حکومت کے لیے ایک ایسا چیلنج بن جائے گی جس سے نمٹنا اس کے لیے آسان نہیں رہے گا۔ وہ پی ڈی ایم کو دبانے کی جتنی بھی کوشش کرے گی ایکسپوز ہوتی جائے گی۔
کہا جارہا ہے کہ حکومت کی نظر سینیٹ کے انتخابات پر ہے۔ اگر موجودہ سیٹ اپ برقرار رہتا ہے اور سینیٹ کے انتخابات شیڈول کے مطابق پُرامن انداز میں ہوجاتے ہیں تو حکومت قانون سازی اور پارلیمانی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرلے گی اور اسے ہلانا دشوار تر ہوجائے گا۔ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ ہم سینیٹ کے انتخابات ہونے دیں گے تب ہی حکومت کو یہ موقع مل سکتا ہے، ہم نے طے کرلیا ہے کہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ سینیٹ کے انتخابات روکنے کے لیے استعفوں کا آپشن موجود ہے جو وقت پر بروئے کار آسکتا ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ اپوزیشن استعفے دے ہم ری الیکشن کرادیں گے۔ اتنا آسان نہیں ہے۔ اپوزیشن کے اجتماعی استعفوں کے بعد منتخب اداروں کی قدر و قیمت صفر ہوجائے گی اور الیکشن کمیشن کے پاس نئے عام انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ حضرت مولانا ابتدا ہی سے اجتماعی استعفوں پر زور دے رہے ہیں۔ اب مسلم لیگ (ن) بھی بڑی حد تک اس پر آمادہ ہوگئی ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی مصلحتوں کا شکار ہے۔ کیوں کہ وہ اجتماعی استعفوں کے نتیجے میں سندھ کی حکومت سے محروم ہوجائے گی جو اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ پیپلز پارٹی نے جس انداز سے سندھ پر حکومت کی ہے اور جس طرح بیڈ گورننس اور کرپشن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے اس کا نتیجہ اقتدار سے مستقل محرومی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے اور پیپلز پارٹی یہ رسک نہیں لینا چاہتی۔
بہرکیف پی ڈی ایم کے جلسوں کے بعد ہی ہوا کے رُخ کا اندازہ ہوسکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ حکومت کتنے پانی میں ہے۔ فی الحال تو… سب کررہے ہیں آہ و فغاں، سب مزے میں ہیں۔